Peoples Tv Pakistan

کراچی پریس کلب الیکشن 2026: دی ڈیموکریٹس پینل کا 18ویں بار تاریخی کلین سویپ

Karachi Press Club Election 2026: Democrats Panel Wins Historic 18th Clean Sweep

کراچی (اسٹاف رپورٹر)

Democrats Panel celebrating victory in Karachi Press Club Election 2026
کراچی پریس کلب انتخابات 2026 میں دی ڈیموکریٹس پینل کی تاریخی فتح

کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات برائے سال 2026 میں دی ڈیموکریٹس پینل نے ایک بار پھر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلسل 18ویں مرتبہ تاریخی کلین سویپ کر لیا۔ اس واضح فتح نے صحافتی برادری میں پینل کی مضبوط جڑوں، اعتماد اور تنظیمی قوت کی بھرپور توثیق کر دی ہے۔

کراچی پریس کلب کے انتخابات ہفتہ کے روز صبح 9 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک جاری رہے۔ پولنگ کے دوران صحافیوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کلب کے 1369 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 1011 ممبران نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو صحافتی برادری کی بھرپور شرکت کا مظہر ہے۔

"کراچی پریس کلب کے انتخابات میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافی اپنے ادارے اور جمہوری عمل پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔"

الیکشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد خان نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صدر کے عہدے پر دی ڈیموکریٹس پینل کے فاضل جمیلی نے 536 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ سیکریٹری کے عہدے پر محمد اسلم خان نے 493 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔

دیگر نتائج کے مطابق نائب صدر کے عہدے پر ارشاد کھوکھر نے 480 ووٹ، خازن کے عہدے پر عمران ایوب نے 622 ووٹ جبکہ جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر محمد فاروق سمیع نے 556 ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی۔

"دی ڈیموکریٹس پینل کی یہ کامیابی صحافیوں کے اعتماد، اتحاد اور آزادیٔ صحافت کے لیے مشترکہ جدوجہد کی عکاس ہے۔"

گورننگ باڈی کی سات نشستوں پر بھی دی ڈیموکریٹس پینل کے امیدوار کامیاب رہے، جن میں عبدالجبار ناصر، اختر حسین سومرو، شیما صدیقی، فریال عارف، جاوید صبا، سید فرید عالم اور جاوید مہر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ انتخابی معرکہ دی ڈیموکریٹس پینل، ڈیموکریٹ پینل، گرین پینل اور آزاد امیدواروں کے درمیان ہوا، تاہم دی ڈیموکریٹس پینل نے ایک بار پھر واضح برتری کے ساتھ میدان مار کر کراچی پریس کلب میں اپنی مضبوط اور فیصلہ کن پوزیشن برقرار رکھی۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دی ڈیموکریٹس پینل کی یہ مسلسل کامیابی نہ صرف صحافیوں کے اعتماد کا مظہر ہے بلکہ یہ جمہوری روایات، ادارہ جاتی استحکام اور آزادیٔ صحافت کے لیے جاری جدوجہد کا عملی اظہار بھی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی