جوہر کمپلیکس یونین کے سیکریٹری پر کے الیکٹرک کی تاروں کی چوری کا الزام ۔ تحقیقات جاری

جوہر کمپلیکس یونین کے سیکریٹری پر کے الیکٹرک کی تاروں کی چوری کا الزام — تحقیقات جاری

جوہر کمپلیکس یونین کا جنرل سیکریٹری کے الیکٹرک کی لاکھوں مالیت کی تاریں چرانے کے الزام کی زد میں

کراچی (رپورٹ: ظہور احمد) — جوہر کمپلیکس ریزیڈنس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ چانڈیو پر قیمتی بجلی کی تاریں چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

کے الیکٹرک کی بجلی کی تاریں چوری کیس

یہ الزام اسی تنظیم کے نائب صدر سید ظہور شاہ نے عائد کیا، جن کا کہنا ہے کہ غلام مصطفیٰ چانڈیو نے کے الیکٹرک کی لاکھوں روپے مالیت کی تاریں فروخت کیں اور حاصل رقم واجبات جمع کرانے کے نام پر کمپنی میں جمع کرا دی، لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ جمع کروایا گیا چیک جعلی تھا۔

“ہماری یونین کے سیکریٹری نے کے الیکٹرک کی تاریں بیچ کر جو رقم جمع کروائی، وہ چیک جعلی نکلا… یہ رہائشیوں کے اعتماد پر بڑا وار ہے۔”
— سید ظہور شاہ

ذرائع کے مطابق سید ظہور شاہ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی پیپلز ٹی وی پاکستان کو موصول ہوئی ہے، جس میں وہ تاروں کی فروش اور جعلی چیک کے جمع ہونے کے حوالے سے مزید اہم انکشافات کر رہے ہیں۔

تار چوری اسکینڈل کی تحقیقات اور آڈیو لیک

اس واقعے کے بعد جوہر کمپلیکس کے رہائشیوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ کے الیکٹرک سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے قانونی کارروائی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور جلد مزید حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی