کراچی / کوئٹہ (پ ر)
عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے کراچی میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت بالخصوص بلوچستان کے موجودہ حالات پر تفصیلی اور سنجیدہ تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماء اور سابق رکنِ بلوچستان اسمبلی خلیل الرحمٰن دمڑ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی، سیاسی محرومی، عوامی مسائل اور مجموعی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بلوچستان نازک دور سے گزر رہا ہے، سید امان شاہ
گفتگو کرتے ہوئے عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک نہایت نازک اور سنگین دور سے گزر رہا ہے، جہاں عوام خود کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
“بلوچستان کے مسائل پر قومی سیاسی جماعتوں کو محض بیانات نہیں بلکہ واضح، دو ٹوک اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا، ورنہ آنے والے وقت میں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔”
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کو نظرانداز کرنا دراصل پاکستان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور عوام کو احساسِ محرومی سے نکالنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
بلوچستان کے بغیر پاکستان ادھورا ہے، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات واقعی تشویشناک ہیں اور انہیں محض ایک صوبے کا مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔
“بلوچستان کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر بلوچستان کے مسئلے پر سوچیں۔”
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی بات کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
سیاسی مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت یا وقتی پالیسیوں میں نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے، مسلسل توجہ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے۔
آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے حق میں آواز بلند کرنے اور قومی سطح پر اس اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے باہمی رابطے اور مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔