پاکستان نے ابوظہبی میں 16ویں آئرینا اسمبلی میں شمسی توانائی میں تیز رفتار ترقی اور شمولیتی توانائی منتقلی کا مظاہرہ کیا
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات | 11 جنوری 2026
پاکستان نے شمسی توانائی اور قابلِ تجدید ذرائع کی جانب شمولیتی منتقلی میں اپنی غیر معمولی پیش رفت کو 16ویں انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA) اسمبلی میں اجاگر کیا۔ وزیرِاعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی، رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا قومی مؤقف پیش کیا۔
اپنے خطاب میں رومینہ خورشید عالم نے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی جانب عوامی سطح پر ہونے والی تیز رفتار تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی شمسی توانائی کی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں 2025 کے اختتام تک 12 گیگاواٹ آف گرڈ اور 6 گیگاواٹ سے زائد نیٹ میٹرڈ شمسی توانائی نصب کی جا چکی ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے قابلِ تجدید ذرائع سے 53 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جو پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
توانائی کی غربت کے خاتمے کے لیے براہِ راست اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب سولر پینل اسکیم 2026 کا ذکر کیا، جس کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو مفت یا رعایتی شمسی نظام فراہم کیے جا رہے ہیں۔
رومینہ خورشید عالم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان 2030 تک بجلی کے مجموعی نظام میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی شامل کرنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم شدہ شمسی کٹس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی اور روزگار کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے آئرینا اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے، جبکہ انرجی اسٹوریج اور گرین ہائیڈروجن جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو عالمی عوامی اثاثہ تصور کیا جائے۔
مزید برآں، انہوں نے مشترکہ توانائی تحفظ کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
خطاب کے اختتام پر رومینہ خورشید عالم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیرس معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر مکمل طور پر کاربند ہے اور ایک مضبوط، شمولیتی اور کم کاربن مستقبل کی تعمیر کے لیے آئرینا سے تکنیکی اور مالی تعاون کا خواہاں ہے۔