بلوچستان سے اغوا ہونے والا گھوٹکی کا انجینئر اور مزدور بازیاب — خاندانوں میں خوشی کی لہر
ضلع خضدار میں دو ہفتے قید رہنے کے بعد انجینئر گلشیر گھنیو اور مولابخش گھنیو کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا — کمپنی مالک کی مقامی سفارت کاری کامیاب رہی
خضدار اغوا کا پس منظر — کیا ہوا تھا؟
سرحد (رپورٹ: عبدالقادر گھنیو) — بلوچستان کے ضلع خضدار سے تقریباً دو ہفتے قبل گھوٹکی کے رہائشی دو افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اغوا ہونے والوں میں انجینئر گلشیر گھنیو اور مزدور مولابخش گھنیو شامل تھے جو کمپنی کی ملازمت کی غرض سے بلوچستان کے علاقے میں موجود تھے۔ اس خبر نے سرحد اور گھوٹکی کے عوام کو انتہائی پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا اور خاندان کے افراد حکام سے فریاد کرتے رہے۔
ورثاء کا کہنا تھا کہ ان کے پیاروں کو کالعدم تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) نے اغوا کیا ہے۔ اغوا کے فوری بعد خاندان کے لوگوں نے مقامی پولیس، سیاسی نمائندوں اور کمپنی مالک سے رابطہ قائم کیا اور ان کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش شروع کر دی۔ یہ واقعہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ بلوچستان میں سندھ اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدور اور پیشہ ور افراد کس قدر خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔
بازیابی کیسے ممکن ہوئی — آغا شکیل درانی کی کامیاب کوشش
تفصیلات کے مطابق، کمپنی کے مالک آغا شکیل درانی نے اس انتہائی نازک صورتحال میں ذاتی سطح پر مداخلت کرتے ہوئے علاقے کے مقامی ذمہ داران اور بااثر شخصیات سے رابطے قائم کیے۔ انہوں نے بات چیت اور مقامی سفارتی کاری کے ذریعے ان تمام اغوا شدہ افراد کی رہائی ممکن بنائی۔ اہلِ خانہ کے مطابق دونوں افراد کو خضدار میں ان کے ورثاء کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سبھی نے سکھ کا سانس لیا۔
بازیابی کی خبر جیسے ہی سرحد اور گھوٹکی میں پھیلی، خاندان کے افراد اور علاقے کے لوگوں میں خوشی کا ماحول چھا گیا۔ طویل انتظار کے بعد پیاروں کی واپسی نے تمام پریشانیوں اور خوف کو خوشی میں بدل دیا۔ اہلِ خانہ نے آغا شکیل درانی کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں اپنے ملازمین کو اکیلا نہیں چھوڑا۔
"ہمیں یقین تھا کہ ہمارے لوگ واپس آئیں گے — آغا شکیل درانی کی کوششوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا، اللہ انہیں جزائے خیر دے۔" — اہلِ خانہ گلشیر گھنیو، گھوٹکی
دیگر اغوا شدہ افراد بھی بازیاب — اختیار مزاری سمیت ملازمین محفوظ
ذرائع کے مطابق صرف انجینئر گلشیر گھنیو اور مولابخش گھنیو ہی نہیں بلکہ اغوا کی اس واردات میں مرید شاخ کے رہائشی اختیار مزاری سمیت کمپنی کے دیگر ملازمین بھی شامل تھے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان تمام افراد کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا اور تمام بازیاب افراد جسمانی اعتبار سے محفوظ ہیں۔
کالعدم تنظیم بی ایل اے — بلوچستان میں خطرے کی علامت
ورثاء نے اس اغوا کا الزام کالعدم تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) پر عائد کیا تھا۔ یہ تنظیم حکومتِ پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جا چکی ہے اور اس پر بلوچستان میں متعدد دہشتگرد حملوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کا الزام ہے۔ بلوچستان میں باہر سے آنے والے مزدوروں اور پیشہ ور افراد کو اکثر اس قسم کے خطرات کا سامنا رہتا ہے، جو نہ صرف ان کی ذاتی سلامتی بلکہ صوبے کی معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
واقعے کا سماجی و معاشی اثر — مزدوروں کی سلامتی ایک قومی سوال
بلوچستان میں سندھی مزدوروں اور انجینئروں کی صورتحال
یہ واقعہ ایک بار پھر اس اہم سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ بلوچستان میں روزگار کی تلاش میں جانے والے دوسرے صوبوں کے افراد کس قدر خطرے میں رہتے ہیں۔ گھوٹکی اور سندھ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں مزدور، انجینئر اور ٹیکنیشن بلوچستان کے مختلف منصوبوں میں کام کرتے ہیں لیکن ان کی سیکیورٹی کا کوئی خاطرخواہ بندوبست نہیں ہوتا۔
اس واقعے نے نہ صرف گھوٹکی بلکہ پورے سندھ میں تشویش کی لہر پیدا کی اور لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے شہریوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے بھی آواز اٹھائی۔
حکومتی موقف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار زیرِ بحث آیا۔ مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے تعاون کا یقین دلایا تاہم بازیابی بالآخر مقامی رابطوں اور کمپنی مالک کی ذاتی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر بلوچستان میں سیکیورٹی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے اور بازیابی کا عمل مزید آسان و تیز ہو۔
یہ بازیابی بلاشبہ ایک خوش آئند خبر ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی رابطے، انسانی کاوشیں اور یکجہتی کتنی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آغا شکیل درانی کی اس کاوش کو سراہنا ضروری ہے جنہوں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے ملازمین کو محفوظ واپس لایا۔
خلاصہ — بازیابی کا پیغام اور آگے کا راستہ
انجینئر گلشیر گھنیو اور مولابخش گھنیو کی بازیابی ایک سکھ کا سانس تو ضرور ہے، لیکن یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں خاص طور پر بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بلوچستان میں امن ناگزیر ہے اور اس کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اغوا کے یہ واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر بلکہ صوبے کی معاشی ترقی اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے اور باہر سے آنے والے مزدوروں و پیشہ ور افراد کی سیکیورٹی یقینی بنائے۔ بلوچستان پاکستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اور یہاں کا امن پورے ملک کا امن ہے۔