سکرنڈ یونیورسٹی وائس چانسلر تقرری تنازع: ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کے خلاف ہنگامی درخواست وزیراعلیٰ سندھ کو موصول
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (SBBUVAS) سکرنڈ میں وائس چانسلر کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر متنازع ہو گیا۔ طلبہ، اساتذہ اور اسٹیک ہولڈرز نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہنگامی درخواست ارسال کر کے ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کی نامزدگی مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (SBBUVAS) سکرنڈ میں وائس چانسلر کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتِ سندھ کے اعلیٰ ترین عہدے، یعنی دفترِ وزیراعلیٰ کو ایک ہنگامی درخواست ارسال کی گئی ہے جس میں ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کو نہ صرف انٹرویو پینل سے بلکہ مکمل سلیکشن پراسس سے فوری طور پر نااہل قرار دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
سرچ کمیٹی کی متنازع سفارش
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰ مارچ ۲۰۲۶ کو مختلف اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق یونیورسٹی کی سرچ کمیٹی نے ایک بار پھر ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کو وائس چانسلر کے امیدواروں کے پینل میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ درخواست گزاروں نے اس سفارش کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ادارے کے تعلیمی مستقبل اور ساکھ کے لیے انتہائی نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کی سفارشات مسترد ہو چکی ہیں اور اس بار بھی انصاف کی توقع رکھی جاتی ہے۔
بدعنوانی اور اقربا پروری کے سنگین الزامات
درخواست میں ڈاکٹر عمران رشید راجپوت پر متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ وہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق کے انتہائی قریبی اور معتمد ساتھی ہیں اور ان دونوں پر ماضی میں بھی بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر قانونی تقرریوں کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسے شخص کو ایک اہم تعلیمی ادارے کا سربراہ بنانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ قانونی لحاظ سے بھی ناقابلِ قبول ہے۔
مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر راجپوت نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اہم انتظامی اور تعلیمی عہدوں پر تعینات کرنے کی کوششیں کی ہیں، جو ادارے کی آزادانہ فیصلہ سازی اور تعلیمی معیار دونوں کے لیے خطرناک روایت ہے۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کرنے سے پہلے اس کا مکمل اور شفاف احتساب یقینی بنایا جائے۔
⚖️ زیرِ سماعت مقدمات — ایک نظر میں
- سپریم کورٹ آف پاکستان میں مقدمہ
- بلوچستان ہائی کورٹ میں مقدمہ
- حیدرآباد کی ماتحت عدالتوں میں مقدمات
- پولیس اسٹیشن ٹنڈو جام میں درج مقدمات
- ہراسانی، مالی بدعنوانی اور دیگر الزامات
عدالتی پابندی کے باوجود چین کا دورہ
درخواست میں ایک انتہائی سنگین الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران رشید راجپوت نے عدالت کی جانب سے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد ہونے کے باوجود چین کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کے فنڈز کا ناجائز استعمال کیا اور اخراجات کیے۔ بعد ازاں جب ان اخراجات کی ادائیگی کے لیے درخواست کی گئی تو ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان (HEC) نے واضح طور پر انکار کر دیا، کیونکہ یہ اخراجات ضوابط کی خلاف ورزی میں کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ ادارے کے مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
لسبیلہ یونیورسٹی میں ناقص کارکردگی
درخواست گزاروں نے ڈاکٹر راجپوت کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق جب ڈاکٹر عمران رشید لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز میں بطور ڈائریکٹر کوالٹی اینہانسمنٹ سیل (QEC) خدمات انجام دے رہے تھے تو ان کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی۔ ادارے کا تعلیمی معیار ان کے دور میں متاثر ہوا اور انتظامیہ کو باقاعدہ تادیبی کارروائی کرنی پڑی۔ یہ ریکارڈ کسی بھی معیاری یونیورسٹی کی قیادت کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
تعلیمی قابلیت اور تقرری پر سوالات
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کی تعلیمی اہلیت اور تجربے سے متعلق دستاویزات پر بھی تحفظات موجود ہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، جس پر باضابطہ تحقیقات بھی ہو چکی ہیں۔ ایسے شخص کا وائس چانسلر جیسے انتہائی ذمہ داری کے عہدے کے لیے نامزد کیا جانا قابلِ قبول نہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سندھ کی اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے تنازعات میں گھرے افراد کو اہم عہدوں سے دور رکھا جائے۔
طلبہ اور اسٹیک ہولڈرز کا مطالبہ
درخواست پر دستخط کرنے والوں میں یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ، سابق طلبہ، فیکلٹی اراکین اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔ ان سب نے متفقہ طور پر حکومتِ سندھ سے اپیل کی ہے کہ ایسے امیدوار کو زیرِ غور نہ لایا جائے جس کے خلاف متعدد عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہوں، جس پر مالی بے قاعدگیوں کے الزامات ہوں اور جس کا ماضی کا ریکارڈ ادارے کے لیے نقصاندہ رہا ہو۔ ان کا مؤقف ہے کہ SBBUVAS سکرنڈ کو اس وقت ایک مضبوط، دیانتدار اور اہل قیادت کی ضرورت ہے۔
درخواست گزاروں نے وزیراعلیٰ سندھ سے گزارش کی ہے کہ جس طرح ماضی میں ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کی نامزدگی کو مسترد کیا گیا تھا، اس بار بھی وہی فیصلہ دہرایا جائے تاکہ یونیورسٹی کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے، تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور میرٹ کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔
حکومتِ سندھ کی ذمہ داری
یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی کی تقرری تک محدود نہیں بلکہ یہ سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے نظام، میرٹ کی پاسداری اور احتساب کے نظام کی مجموعی صورتحال کا آئینہ ہے۔ درخواست گزاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس بار بھی متنازع نامزدگی کو آگے بڑھایا گیا تو نہ صرف ادارے کا مستقبل خطرے میں پڑے گا بلکہ سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے حکومت کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ بلاتاخیر اس معاملے کا نوٹس لیں اور شفاف و میرٹ پر مبنی تقرری عمل کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ SBBUVAS سکرنڈ صوبہ سندھ کی ایک اہم زرعی و ویٹرنری یونیورسٹی ہے جہاں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور یہ ادارہ سندھ کے مویشی پروری اور زرعی شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس یونیورسٹی کی قیادت کا انتخاب نہایت ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔