کراچی میں ریلوے ٹریک بھی محفوظ نہ رہا — ملک ندیم نامی بااثر شخص نے رکشہ اسٹینڈ بنا لی، چوکی انچارج کا کارروائی سے گریز
گیلانی اسٹیشن کے قریب سرکلر ریلوے کی زمین پر مبینہ قبضہ — پاکستان ریلوے پولیس کے اہلکار نے کہا "یہ میری ذمہ داری نہیں"
Illegal rickshaw stand allegedly built by Malik Nadeem on Karachi Circular Railway track near Bait-ul-Mukarram Mosque, Gilani Station, District East. Photo: Peoples TV PK / Ashraf Solangi
کراچی (رپورٹ: اشرف سولنگی / ظہور احمد سروہی): کراچی میں سرکاری زمینوں پر قبضوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ اب ریلوے کی زمین تک بھی جا پہنچا ہے۔ برسوں سے غیر فعال پڑی سرکلر ریلوے لائن پر جگہ جگہ غیر قانونی تعمیرات اور کاروباری سرگرمیاں قائم ہو چکی ہیں — اور تازہ ترین معاملہ ضلع شرقی کے علاقے میں بیت المکرم مسجد کے سامنے، گیلانی اسٹیشن کے قریب سامنے آیا ہے، جہاں ریلوے ٹریک پر مبینہ طور پر ایک رکشہ اسٹینڈ قائم کر دی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس مقام پر پہلے ہی مختلف مقامات پر مکانات، جھگیاں اور دیگر عارضی ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث پاکستان ریلویز کی قیمتی زمین آہستہ آہستہ سکڑتی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے قبضے اس زمین کو ہڑپ کرتے جا رہے ہیں اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
بیت المکرم مسجد کے سامنے، گیلانی اسٹیشن کے قریب — ضلع شرقی، کراچی | پاکستان ریلویز سرکلر ریلوے ٹریک
ملک ندیم کون ہے؟ — مبینہ قابض کا دعویٰ
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ قبضہ ایک مبینہ بااثر شخص ملک ندیم نے کیا ہے، جو خود کو سیاسی شخصیات کا قریبی ساتھی ظاہر کرتا ہے۔ مقامی سطح پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ اسے بعض سیاسی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے — تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
پیپلز ٹی وی کی ٹیم جب اس معاملے کی تحقیق کے لیے موقع پر پہنچی اور ملک ندیم سے گفتگو کی، تو اس کے جواب نے ادارہ جاتی کمزوری کی پوری تصویر پیش کر دی۔
ملک ندیم نے پیپلز ٹی وی کی ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے بااثر شخصیات کی حمایت حاصل ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس نے مزید الزام عائد کیا کہ وہ متعلقہ اداروں کو باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتا ہے۔
— ملک ندیم (مبینہ قابض) — گفتگو بہ پیپلز ٹی وی پی کے | نوٹ: یہ بیانات ملک ندیم کے اپنے دعوے ہیں، سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی
Pakistan Railways Police ASI Nazeer Ahmed told Peoples TV PK that removing encroachments is not his responsibility — raising serious questions about institutional accountability. Photo: Peoples TV PK / Zahoor Ahmad Sarwahi
پولیس اہلکار کا چونکا دینے والا بیان
اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب پاکستان ریلویز پولیس کے اہلکار اے ایس آئی نظیر احمد سے غیر قانونی قبضے کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان کا جواب ادارہ جاتی ذمہ داری سے صریح انحراف کی مثال ہے۔
پاکستان ریلویز پولیس کے اہلکار اے ایس آئی نظیر احمد نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ قبضہ ہٹانا ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔
— اے ایس آئی نظیر احمد، پاکستان ریلویز پولیس، گیلانی اسٹیشن چوکی
⚖️ قانونی سوال
پاکستان ریلوے ایکٹ کے تحت ریلوے پولیس کی ذمہ داری میں ریلوے کی زمین اور جائیداد کی حفاظت شامل ہے۔ اے ایس آئی کا یہ بیان کہ "یہ میری ذمہ داری نہیں" نہ صرف قانونی طور پر متنازعہ ہے بلکہ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ مبینہ طور پر ادارہ جاتی مدد یا چشم پوشی کے بغیر اس نوعیت کے قبضے ممکن نہیں ہوتے۔
زمینی حقائق — کیا دکھا پیپلز ٹی وی کی ٹیم نے
🔍 موقع پر موجود صورتحال
- 🛺ریلوے ٹریک پر غیر قانونی رکشہ اسٹینڈ قائم — رکشے کھڑے اور کاروبار جاری
- 🏚️آس پاس متعدد مکانات، جھگیاں اور عارضی ڈھانچے پہلے سے موجود
- 📉ریلوے کی زمین کا رقبہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے
- 👮ریلوے پولیس چوکی موجود مگر کارروائی سے انکار
- 🔇مقامی انتظامیہ بھی مکمل خاموش
- 💬ملک ندیم کا کھلے عام سیاسی پشت پناہی کا دعویٰ
علاقہ مکینوں کا غم و غصہ
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ چشم پوشی کے بغیر اس نوعیت کے قبضے ممکن ہی نہیں۔ سرکاری زمین پر کھلے عام رکشہ اسٹینڈ بنانا اور پھر ریلوے پولیس کا لاتعلقی کا اظہار کرنا — یہ سب ملا کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو کراچی میں قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔
"اگر ریلوے پولیس ریلوے کی زمین نہیں بچا سکتی تو پھر ان کا وجود کس مقصد کے لیے ہے؟ یہ قبضہ کئی مہینوں سے ہے، سب جانتے ہیں، مگر کوئی کچھ نہیں کر رہا۔"
— علاقہ مکین، گیلانی اسٹیشن کے قریب، ضلع شرقی کراچی
کراچی سرکلر ریلوے — خواب اور حقیقت
📚 پس منظر — کراچی سرکلر ریلوے
کراچی سرکلر ریلوے کبھی شہر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی اور لاکھوں شہریوں کو سستی اور تیز رفتار سواری فراہم کرتی تھی۔ مگر طویل عرصے سے یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔ اس دوران ریلوے کی زمین پر بڑھتے ہوئے قبضے اور غیر قانونی تعمیرات نے مستقبل میں اس اہم منصوبے کی بحالی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ہر نیا قبضہ شہر کے اس اہم عوامی منصوبے کے مستقبل کو مزید تاریک کر رہا ہے۔
شہریوں کے مطالبات
📢 شہریوں اور سول سوسائٹی کے مطالبات
- ⚡ریلوے کی زمین سے فوری طور پر غیر قانونی رکشہ اسٹینڈ اور تمام قبضے ہٹائے جائیں
- ⚖️ملک ندیم اور تمام قابضین کے خلاف پاکستان ریلوے ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے
- 👮اے ایس آئی نظیر احمد سمیت ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ تحقیقات ہو
- 🔍سرکلر ریلوے کی تمام زمین کا سروے کر کے تمام قبضوں کی فہرست بنائی جائے
- 🏛️اعلیٰ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور عوام کو نتائج سے آگاہ کریں
پیپلز ٹی وی پی کے اس معاملے کو مسلسل فالو کرتا رہے گا اور متعلقہ اداروں کے موقف کے لیے رابطے جاری ہیں۔ ابھی تک پاکستان ریلویز کے سینئر حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ موقف موصول نہیں ہوا۔