سندھ حکومت کے ۱۰۳ ارب روپے کے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے نے کراچی کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی
چار سال گزر گئے، ڈیڈ لائن جون ۲۰۲۶ آ گئی — مگر یونیورسٹی روڈ پر تعمیراتی کام ابھی بھی ادھورا، کئی مقامات پر مکمل طور پر بند
University Road Karachi — broken roads, open excavations and blocked routes as the Rs 103 billion Red Line BRT project stalls after four years. Photo: Peoples TV PK
کراچی (اسٹاف رپورٹر): شہر قائد کی مصروف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر جاری ۱۰۳ ارب روپے مالیت کے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چار سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا، جبکہ تعمیراتی کام نہایت سست روی سے جاری ہے بلکہ کئی مقامات پر مکمل طور پر بند دکھائی دے رہا ہے۔
منصوبے کے آغاز کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کراچی کے عوام کو تیز، آرام دہ اور سستی سفری سہولت فراہم کرے گا اور شہر کے ٹریفک کے بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے — یونیورسٹی روڈ پر جگہ جگہ کھدائی، ٹوٹی سڑکیں، بند راستے اور ناقص ٹریفک مینجمنٹ نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔
کئی مقامات پر راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کو خود اپنے ہاتھوں سے سڑکیں کھولنا پڑ رہی ہیں — جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ انتظامیہ کی مکمل غیر موجودگی کا ثبوت بھی ہے۔
شہریوں کی فریاد — انتظامیہ غائب، مشکلات دوچند
علاقہ مکینوں اور روزانہ یونیورسٹی روڈ سے سفر کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مکمل طور پر غائب دکھائی دیتی ہے۔ نہ کوئی ٹریفک کا متبادل انتظام ہے، نہ تعمیراتی مقامات پر مناسب حفاظتی اقدامات، اور نہ ہی عوام کو کسی بھی قسم کی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ روز بروز بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
😔 شہریوں کو درپیش اہم مسائل
- 🚗ٹریفک جام: یونیورسٹی روڈ پر گھنٹوں کی ٹریفک بندش — روزانہ لاکھوں شہری متاثر
- 🛣️ٹوٹی سڑکیں: جگہ جگہ کھدائی اور ادھوری تعمیر سے راستے ناقابلِ استعمال
- 🚫بند راستے: کئی اہم سڑکیں بند، متبادل راستے نہ ہونے کے برابر
- 🌫️گرد و غبار: تعمیراتی دھول سے فضائی آلودگی — سانس کے مریض سب سے زیادہ متاثر
- 🚑ایمرجنسی سروسز: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کا راستہ بند — قیمتی جانوں کو خطرہ
- 🏪کاروباری نقصان: علاقے کے تاجروں اور دکانداروں کی آمدنی شدید متاثر
- 🎓طلبہ و ملازمین: وقت پر پہنچنا ناممکن — تعلیمی و پیشہ ورانہ نقصان
وزیراعلیٰ کی جون ۲۰۲۶ کی ڈیڈ لائن — زمینی حقائق کیا کہتے ہیں؟
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے جون ۲۰۲۶ کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی۔ تاہم یونیورسٹی روڈ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ڈیڈ لائن پوری ہونا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن نظر آتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو مقررہ وقت میں منصوبے کی تکمیل محض ایک خواب ہی رہے گی — اور اس خواب کی قیمت عوام اپنی روزمرہ زندگی میں ادا کر رہے ہیں۔
"چار سال ہو گئے ہیں، سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، راستے بند ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہم نے ووٹ ترقی کے لیے دیا تھا، یہ اذیت کے لیے نہیں دیا تھا۔"
— علاقہ مکین، یونیورسٹی روڈ کراچی
کاروبار، تعلیم اور ایمرجنسی — سب متاثر
ٹریفک جام، گرد و غبار، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور ایمبولینس و ایمرجنسی سروسز کی تاخیر جیسے سنگین مسائل نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ طلبہ وقت پر تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پاتے، ملازمین دفاتر سے دیر سے پہنچتے ہیں، اور کاروباری افراد گاہکوں کی کمی کی شکایت کر رہے ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال ہنگامی خدمات کی ہے — بند راستوں کی وجہ سے ایمبولینسوں کو بروقت پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جو کسی بھی وقت المناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
تعمیراتی مقامات پر بند راستوں کی وجہ سے ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور پولیس کی گاڑیاں وقت پر نہیں پہنچ پاتیں — جو شہریوں کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
شہریوں کے مطالبات — حکومت کو فوری ایکشن لینا ہوگا
شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے اور احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔
📢 شہریوں کے اہم مطالبات
- ⚡تعمیراتی کام کی رفتار فوری طور پر تیز کی جائے اور روزانہ کی پیشرفت رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے
- 🛣️بند راستوں کے متبادل آمدورفت کے فوری انتظامات کیے جائیں
- 🚑ایمرجنسی سروسز کے لیے خصوصی گزرگاہیں فوری طور پر یقینی بنائی جائیں
- 🌫️گرد و غبار اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں
- 📋منصوبے کی تکمیل کی واضح اور حقیقت پسندانہ ٹائم لائن عوام کو بتائی جائے
- 👷ذمہ دار حکام کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے
شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو عوامی احتجاج میں شدت آنا ناگزیر ہوگا — اور اس کی پوری ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
— شہری نمائندگان، یونیورسٹی روڈ کراچی