کراچی (اسٹاف رپورٹر): کراچی کے گلشن اقبال سب ڈویژن میں تعینات انڈر ٹریننگ مختیارکار اقرار دومکی کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع اور کاروباری حلقوں کے مطابق زیر الزام افسر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے دکانداروں اور ریسٹورنٹ مالکان کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، انہیں جرمانوں اور دکانیں سیل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور "پرائس چیکنگ" کے نام پر مبینہ بھتہ خوری کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مبینہ سرگرمیاں گلشن اقبال کے علاوہ گلستانِ جوہر اور موسمیات کے علاقوں تک پھیلی ہوئی بتائی جاتی ہیں۔

🏪 3+ علاقے گلشن اقبال، گلستانِ جوہر، موسمیات
⚠️ انڈر ٹریننگ ملزم افسر کا عہدہ — مختیارکار
🔍 بہانہ پرائس چیکنگ کے نام پر مبینہ وصولی
📢 مطالبہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات
⚠️ نوٹ: یہ خبر دستیاب ذرائع اور کاروباری حلقوں کے بیانات پر مبنی ہے۔ متعلقہ افسران یا نامزد افراد کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ Peoples TV Pakistan متعلقہ فریق کا موقف آتے ہی اسے شامل کرے گا۔

"پرائس چیکنگ" — اختیار کا مبینہ غلط استعمال

ذرائع کے مطابق متعلقہ مختیارکار اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد مختلف کاروباری مراکز پر "پرائس چیکنگ" کے بہانے دورے کرتے ہیں۔ یہ دورے بظاہر سرکاری اختیار کے تحت کیے جاتے ہیں کیونکہ مختیارکار کو قیمتوں پر نظر رکھنے کا قانونی اختیار حاصل ہوتا ہے — لیکن الزام یہ ہے کہ اس اختیار کو مبینہ طور پر ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دکانداروں کو ان دوروں کے دوران مبینہ طور پر جرمانوں کی دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر "تعاون" نہیں کیا تو دکان سیل کر دی جائے گی۔

متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ دورے کسی ضابطے یا شیڈول کے بغیر اچانک کیے جاتے ہیں اور اکثر اوقات یہ نہیں بتایا جاتا کہ آخر کس قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی پائی گئی ہے — بس جرمانے یا سیل کی دھمکی دے کر مالی ریکوری کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک ریسٹورنٹ مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں بھی اسی طرح کی دھمکی دی گئی اور "معاملہ رفع دفع" کرنے کے لیے غیر سرکاری ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔

متاثرہ علاقے — گلشن اقبال سے موسمیات تک

ذرائع کے مطابق یہ مبینہ سرگرمیاں صرف گلشن اقبال سب ڈویژن تک محدود نہیں بلکہ ہمسایہ علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں:

🏘️ گلشن اقبال مرکزی سب ڈویژن — سب سے زیادہ متاثر
🏘️ گلستانِ جوہر مبینہ ریکوری کی اطلاعات
🏘️ موسمیات متاثرہ کاروباری علاقہ

یہ تینوں علاقے کراچی کے گنجان آباد اور کاروباری لحاظ سے انتہائی فعال علاقے ہیں جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے سینکڑوں کاروبار موجود ہیں۔ ان علاقوں کے تاجروں اور دکانداروں کی بڑی تعداد پہلے سے مہنگائی، کم ہوتی طلب اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پریشانی کا شکار ہے — ایسے میں سرکاری افسران کی جانب سے مبینہ ہراسانی ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

مختیارکار کا اختیار — قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان میں مختیارکار (Revenue Officer) ایک اہم انتظامی عہدہ ہے جو ضلعی انتظامیہ کے تحت کام کرتا ہے۔ ان کے قانونی اختیارات میں زمین کے ریکارڈ کی دیکھ بھال، قیمتوں کی نگرانی اور مقامی انتظامی معاملات شامل ہیں۔ تاہم قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ اختیارات صرف مقررہ ضابطوں کے تحت، باضابطہ کارروائی کے ذریعے اور تحریری حکم نامے کی بنیاد پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی شہری یا کاروباری ادارے سے غیر سرکاری ادائیگی وصول کرنا یا ادائیگی نہ کرنے پر دھمکی دینا سراسر قانون کی خلاف ورزی اور قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔

📌 قانونی نکتہ: "انڈر ٹریننگ" افسران قانونی طور پر محدود اختیارات کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر جرمانے عائد کرنے یا سیل کارروائی کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایسے کسی بھی اقدام کے لیے اعلیٰ افسر کی باضابطہ منظوری ضروری ہے۔

مبینہ ہراسانی کا طریقۂ کار — ذرائع کے مطابق

  • اچانک اور بغیر پیشگی اطلاع کے "پرائس چیکنگ" کے نام پر دکانوں اور ریسٹورنٹس کے دورے
  • دکانداروں کو مبینہ خلاف ورزیوں کی مبہم دھمکی دینا جن کی تفصیل نہیں بتائی جاتی
  • سیل کارروائی اور بھاری جرمانوں کی دھمکی دے کر مبینہ غیر سرکاری ادائیگی کا مطالبہ
  • بعض افراد کے ذریعے مبینہ "ریکوری" کا سلسلہ — جو براہِ راست متعلقہ افسر سے منسوب نہیں
  • چھوٹے دکانداروں اور ریسٹورنٹ مالکان کو خصوصی طور پر نشانہ بنانا جو قانونی چارہ جوئی سے قاصر ہوں

کاروباری حلقوں کا موقف — شفاف تحقیقات کا مطالبہ

گلشن اقبال اور گلستانِ جوہر کے کاروباری حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مشکل معاشی حالات میں اپنا کاروبار جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے میں اگر سرکاری افسران کی جانب سے بھی ہراسانی ہو تو چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ٹکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کاروباری نمائندوں نے صوبائی حکومت، کمشنر کراچی اور متعلقہ اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور فوری تحقیقات کروائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملزم افسر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ہم ہر ماہ بجلی کے بھاری بل، مہنگا کرایہ اور ٹیکس ادا کرتے ہیں — اور پھر اوپر سے یہ غیر سرکاری وصولیاں۔ چھوٹا دکاندار کہاں جائے؟ اعلیٰ حکام کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ہم سکون سے روزگار کما سکیں۔

— ایک متاثرہ دکاندار گلشن اقبال، کراچی (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر)

عوامی ردعمل — احتساب کا مطالبہ

سرکاری افسران کا یہ رویہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ کاروباری ماحول کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ فوری نوٹس لے اور ایسے افسران کو کڑے احتساب کے کٹہرے میں لائے جو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
— سماجی حلقوں کا موقف، کراچی

آگے کیا ہوگا — انتظامیہ کی ذمہ داری

اس پوری صورتحال میں کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر شرقی اور متعلقہ اعلیٰ افسران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف اس مخصوص شکایت کا نوٹس لیں بلکہ پورے ضلعے میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کریں۔ Peoples TV Pakistan نے متعلقہ افسر اور انتظامیہ سے رابطے کی کوشش کی تاہم تاحال کوئی باضابطہ موقف موصول نہیں ہوا — موقف موصول ہونے پر اسے فوری طور پر شامل کیا جائے گا۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں اور متعلقہ افسران کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا تو دیگر علاقوں میں بھی ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں لاکھوں افراد چھوٹے کاروبار سے اپنا روزگار چلاتے ہیں، انتظامیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو تحفظ دے، ہراساں کرنے والوں کا احتساب کرے اور شہریوں کا سرکاری نظام پر اعتماد بحال رکھے۔