کراچی میں عید قربانی کے موقع پر گلشن اقبال سب ڈویزن میں غیر قانونی مویشی منڈیوں کے خلاف آپریشن تیز — گرفتاریاں، مقدمات اور فوری ایکشن
کراچی (اسٹاف رپورٹر): عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی شہرِ کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی مویشی منڈیوں کا مسئلہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا تھا، تاہم اس بار ضلعی انتظامیہ نے بروقت اور سخت ایکشن لیتے ہوئے ان منڈیوں کے خلاف زور دار کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال فراز عباسی کی براہِ راست سربراہی میں گلشن اقبال سب ڈویزن کے اہم علاقوں — گلستان جوہر کامران چورنگی اور راشد منہاس روڈ — پر قائم غیر قانونی مویشی منڈیوں کو ختم کروا دیا گیا۔ منڈیاں قائم کرنے والے افراد کے خلاف باضابطہ مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
کہاں کہاں قائم تھیں غیر قانونی منڈیاں؟
عید الاضحیٰ کا تہوار جوں جوں قریب آتا ہے، کراچی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کے کنارے، خالی پلاٹوں اور رہائشی گلیوں میں غیر قانونی مویشی منڈیاں سجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس بار گلشن اقبال سب ڈویزن کے دو اہم مقامات — گلستان جوہر کامران چورنگی اور راشد منہاس روڈ — پر ایسی ہی منڈیاں قائم کی گئی تھیں۔ یہ منڈیاں نہ صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں بلکہ صفائی، حفظانِ صحت اور ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسائل بھی پیدا کرتی ہیں۔
محکمانہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان منڈیوں کو قائم کرنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ قانون کے مطابق کراچی میں کوئی بھی مویشی منڈی قائم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے باضابطہ این او سی اور اجازت نامہ لینا لازمی ہے۔ اس قانونی ضرورت کو یکسر نظر انداز کر کے من مانی طریقے سے منڈیاں لگانا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، اور اسسٹنٹ کمشنر فراز عباسی نے اس بے قاعدگی کو فوری نوٹس میں لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا۔
اسسٹنٹ کمشنر فراز عباسی کی سربراہی میں آپریشن — تفصیل
اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال فراز عباسی نے اطلاع ملتے ہی فوری ایکشن لیا اور اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ ان کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر ایسٹ کے اسٹاف آفیسر جہانگیر جمالی اور گلستان جوہر پولیس کی ٹیم بھی موجود تھی، جس نے میدانی سطح پر آپریشن کو کامیابی سے مکمل کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
آپریشن کے دوران غیر قانونی منڈیاں فوری طور پر ختم کی گئیں، جانور اور سامان ہٹوایا گیا اور جگہ کو صاف کروایا گیا۔ منڈی قائم کرنے کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف باضابطہ مقدمات درج کیے گئے اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے واضح پیغام گیا کہ ضلعی انتظامیہ قانون سے بالاتر کسی کو بھی نہیں سمجھتی۔
گلشن اقبال سب ڈویزن میں ختم کرائی جانے والی مویشی منڈی کی ڈپٹی کمشنر سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ سب ڈویزن گلشن اقبال میں اگر کہیں پر بھی غیر قانونی مویشی منڈی قائم ہوگی اسے فوری ختم کرایا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔
غیر قانونی مویشی منڈیاں — شہریوں کے لیے کتنی تکلیف دہ؟
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں پہلے ہی ٹریفک، صفائی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل ہیں، وہاں غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم ہونا دوہری پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی منڈیاں اکثر رہائشی علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے قریب لگائی جاتی ہیں جہاں جانوروں کے فضلے سے ماحولیاتی آلودگی پھیلتی ہے۔ سڑکیں بلاک ہونے سے عوام کو آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں اور ایمبولینسوں سمیت ہنگامی گاڑیاں بھی پھنس جاتی ہیں۔
غیر قانونی مویشی منڈیوں کے نقصانات ایک نظر میں
- رہائشی علاقوں میں جانوروں کے فضلے سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ اور ماحولیاتی آلودگی
- سڑکوں پر ناجائز قبضے سے ٹریفک جام — ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی رسائی متاثر
- ڈپٹی کمشنر سے اجازت نہ لینے کی وجہ سے سرکاری محصولات کا نقصان
- مقامی شہریوں کو گھروں کے سامنے منڈیاں لگنے سے شدید تکلیف اور بدبو
- قانونی منڈیوں میں جانور بیچنے والے بے ضرر تاجروں کا نقصان
- غیر قانونی منڈیوں میں جانوروں کی صحت اور فٹنس سرٹیفکیٹ کی جانچ نہ ہونا
ضلعی انتظامیہ کا واضح پیغام — زیرو ٹالرنس پالیسی
اسسٹنٹ کمشنر فراز عباسی نے آپریشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی واضح اور دوٹوک موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال سب ڈویزن میں کسی بھی جگہ غیر قانونی مویشی منڈی قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی — چاہے وہ کوئی بھی شخص ہو۔ جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف نہ صرف منڈی فوری ختم کرائی جائے گی بلکہ مقدمہ بھی درج ہوگا۔
انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی جگہ غیر قانونی مویشی منڈی قائم ہوتے دیکھیں تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ یہ پالیسی صرف عید الاضحیٰ کے موسم تک محدود نہیں بلکہ پورے سال جاری رہے گی۔
فراز عباسی
اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال — آپریشن کے سربراہ
جہانگیر جمالی
اسٹاف آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر ایسٹ — آپریشن میں شامل
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر بھی اس کارروائی کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید کے موقع پر یہی کہانی دہرائی جاتی ہے — غیر قانونی منڈیاں لگتی ہیں، شہر بدحال ہوتا ہے اور پھر آخری وقت میں کارروائی ہوتی ہے۔ اب لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انتظامیہ پہلے سے ہی احتیاطی اقدامات کرے اور قانونی منڈیوں کو تمام سہولیات مہیا کر کے تاجروں کو وہاں جانے کی ترغیب دے تاکہ غیر قانونی منڈیوں کا سلسلہ جڑ سے ختم ہو۔
مجموعی طور پر ضلعی انتظامیہ کراچی ایسٹ کا یہ اقدام قابلِ تعریف ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر فراز عباسی اور ان کی ٹیم نے جس تیزی اور استعداد کے ساتھ آپریشن کو انجام دیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انتظامیہ ارادہ کر لے تو قانون کا نفاذ ممکن ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ آپریشن جاری رہتا ہے یا محض عارضی کارروائی پر ختم ہو جاتا ہے۔
کیا آپ کے علاقے میں بھی غیر قانونی مویشی منڈیاں لگتی ہیں؟ کیا انتظامیہ کی یہ کارروائی کافی ہے یا مزید سخت اقدامات ہونے چاہئیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں دیں اور خبر دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔