کراچی (پریس ریلیز / نیوز ڈیسک): عالمی یوم مزدور کے موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں موسمیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں ملک کے نامور ماہرین معاشیات، انسانی حقوق کے نمائندوں اور مزدور تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور محنت کش طبقے پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے حقوق، سماجی تحفظ اور موسمیاتی انصاف آج کے پاکستان کی سب سے اہم اور فوری ضرورت ہیں۔

🌡️ 2015 کراچی گرمی کی لہر — ہزاروں جانیں لقمۂ اجل
🌊 80% 2022 سیلاب متاثرین — صوبہ سندھ سے
👩‍🏭 30% ٹیکسٹائل شعبے میں خواتین مزدور
📚 2.6 کروڑ بچے اسکول سے باہر — اکثریت مزدور طبقے سے

موسمیاتی تبدیلی — مزدور طبقے کے روزگار کو سنگین خطرات

سیمینار میں مقررین نے واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی گرمی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمیاتی مظاہر نے زراعت، ماہی گیری، تعمیرات اور دیگر شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان موسمیاتی آفات کی وجہ سے معاشرے میں پہلے سے موجود غربت اور عدم مساوات مزید بڑھ رہی ہے، اور محنت کش طبقہ اس سب کا سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہے۔ مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ مزدوروں کے روزگار پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور جامع پالیسی تشکیل دی جائے اور تمام مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

سیمینار میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ پاکستانی مزدوروں کی روزمرہ زندگی کا ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث بیرونی کام کرنے والے مزدور، کسان اور تعمیراتی مزدور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر روزی کماتے ہیں۔ سیلابوں نے لاکھوں دیہی مزدوروں کی فصلیں تباہ کی ہیں اور انہیں شہروں کی طرف نقل مکانی پر مجبور کیا ہے جہاں وہ غیر رسمی معیشت کے رحم و کرم پر ہیں اور سوشل سیکیورٹی کے کسی بھی جال سے باہر ہیں۔

⚡ اہم مطالبہ: سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مزدوروں کے روزگار پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے منصفانہ پالیسی تشکیل دی جائے اور تمام مزدوروں — چاہے وہ رسمی شعبے میں ہوں یا غیر رسمی — کے لیے سوشل سیکیورٹی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

قیصر بنگالی: یونین سازی کا حق عملاً ختم ہو چکا ہے

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے معروف ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ مزدوروں کے روزگار کے تحفظ کے لیے ملک میں یونین سازی کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مزدوروں کا یونین بنانے کا حق عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی اجتماعی طاقت بکھر گئی ہے اور وہ انفرادی سطح پر اپنے حقوق کے لیے لڑنے پر مجبور ہیں۔ قیصر بنگالی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ماضی میں مزدوروں کے حقوق کے لیے میڈیا میں آواز اٹھائی جاتی تھی، لیکن میڈیا کو بھی کمزور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر منصفانہ قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا کا بھی گلا گھونٹنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، اور 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو بھی حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

مزدوروں کے حقوق کے لیے تمام مزدور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ پائلر جیسا ادارہ اس اتحاد کو ممکن بنانے کے لیے موجود ہے۔ جب تک مزدور متحد نہیں ہوں گے، ان کے حقوق کے لیے کوئی بھی آواز اٹھانا بے اثر رہے گا۔

— قیصر بنگالی معروف ماہر معاشیات
قیصر بنگالی ماہر معاشیات پائلر یوم مزدور سیمینار کراچی 2026 میں خطاب کر رہے ہیں — یونین سازی اور مزدور حقوق پر تقریر
قیصر بنگالی پائلر کے یوم مزدور سیمینار میں یونین سازی اور مزدوروں کے حقوق پر خطاب کرتے ہوئے — Peoples TV Pakistan

عباس حیدر: 2015 کی گرمی میں 5 ہزار سے زائد ہلاکتیں مزدور طبقے کی تھیں

پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی اور شہری غربت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں کراچی کی جان لیوا گرمی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 300 ہلاکتیں ہوئی تھیں، لیکن ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق اصل ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار سے زائد تھی — اور ان میں اکثریت محنت کش طبقے کے افراد کی تھی جو گرمی میں بھی مجبوری میں کام کرتے رہے اور بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش نے ان کے لیے گھر میں بھی کوئی پناہ نہ چھوڑی۔

عباس حیدر نے خواتین مزدوروں کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس جیسے بڑے برآمدی شعبوں میں 30 فیصد خواتین ملازم ہیں، لیکن ان کی اکثریت سوشل سیکیورٹی کے اداروں کی سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پائلر نے ہمیشہ تمام مزدور تنظیموں کو متحد کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ سال یوم مئی کا پروگرام ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد کیا جائے گا — یہ وعدہ تمام مزدور رہنماؤں کے لیے حوصلہ افزاء پیغام تھا۔

اہم نکات — عباس حیدر کا خطاب

  • 2015 کراچی گرمی: سرکاری اعداد 300، ایدھی کے مطابق 5 ہزار سے زائد ہلاکتیں — اکثریت مزدور طبقے کی
  • غریب علاقوں میں غیر اعلانیہ بجلی بندش نے مزدور طبقے کو موسمیاتی خطرات سے بے یارومددگار چھوڑا
  • ٹیکسٹائل اور گارمنٹس میں 30 فیصد خواتین مزدور سوشل سیکیورٹی سے محروم
  • اگلے سال یوم مئی مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے منانے کا اعلان

قاضی خضر: آئین کی ضمانتیں — زمینی حقائق سے کہیں دور

انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین قاضی خضر نے اپنے خطاب میں ملک میں آئینی حقوق اور زمینی حقائق کے درمیان گہری خلیج کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو یکساں حقوق اور سہولیات کی ضمانت دیتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، اور ان کی اکثریت محنت کش طبقے کے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے — یہ بچے بچپن میں ہی مزدوری کے چکی میں پس جاتے ہیں۔

انہوں نے ولیکا اسپتال میں نوزائیدہ 78 بچوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے متاثر ہونے کے حالیہ واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ قاضی خضر نے کہا کہ مزدور طبقے کے لیے صحت کی سہولیات کی ناکافی فراہمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے — سرکاری اسپتال سہولیات سے خالی ہیں اور نجی صحت کا نظام غریب مزدور کی پہنچ سے باہر ہے۔

قیصر بنگالی معروف ماہر معاشیات پاکستان — یوم مزدور سیمینار پائلر کراچی 2026

قیصر بنگالی

معروف ماہر معاشیات

ناصر منصور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما — پائلر سیمینار کراچی 2026

ناصر منصور

رہنما، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن

ناصر منصور: پاکستان کا قصور نہیں — امیر ممالک کو معاوضہ دینا ہوگا

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے اپنے خطاب میں موسمیاتی انصاف کے عالمی تناظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان اور یہ خطہ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، حالانکہ پاکستان کا کاربن اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2022 کا تباہ کن سیلاب اس کی سب سے واضح مثال ہے جس میں 80 فیصد سے زائد متاثرین صوبہ سندھ کے تھے۔

ناصر منصور نے واضح کیا کہ اس تباہی کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جنہوں نے صدیوں تک بے دریغ فوسل فیولز جلا کر موجودہ موسمیاتی بحران پیدا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں جرمنی میں ایک قانونی کیس زیر سماعت ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی نقصانات کا معاوضہ دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے — اور یہ عالمی موسمیاتی انصاف کی جدوجہد کا ایک اہم محاذ ہے۔

پاکستان اور اس جیسے ترقی پذیر ممالک کا موسمیاتی تبدیلی میں قصور نہ ہونے کے برابر ہے لیکن نقصان سب سے زیادہ انہی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ امیر ممالک اور بڑی کمپنیوں کو موسمیاتی انصاف کے اصول کے تحت تاوان اور معاوضہ دینا ہوگا۔

— ناصر منصور رہنما، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن

عوامی ردعمل — مزدور طبقے کی آواز

ہم ہر سال یوم مزدور مناتے ہیں لیکن ہماری حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ موسم کی مار الگ، بجلی کے بل الگ، یونین بنانے پر پابندی الگ — ایسے میں پائلر جیسے ادارے ہماری اکلوتی آواز ہیں۔
— ایک ٹیکسٹائل مزدور، کراچی

سیمینار کے اہم مطالبات — ایک جامع نظر

  • تمام مزدوروں کے لیے یونین سازی کے حق کی بحالی اور اجتماعی سودے بازی کا تحفظ
  • رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں کے مزدوروں کے لیے یکساں سوشل سیکیورٹی کی سہولیات
  • موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مزدور دوست قومی پالیسی کی تشکیل
  • خواتین مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی اداروں کی سہولیات میں شامل کیا جائے
  • تمام مزدور تنظیموں کا اتحاد — اگلا یوم مئی مشترکہ پلیٹ فارم پر منانے کا عزم
  • موسمیاتی نقصانات کے معاوضے کے لیے عالمی سطح پر قانونی جدوجہد کی حمایت
  • ولیکا اسپتال ایڈز واقعے کی غیر جانبدار اور فوری تحقیقات

سیمینار میں مہناز رحمان اور سعید بلوچ نے بھی خطاب کیا اور محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں کے درمیان مضبوط اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مزدور طبقہ ایک طرف موسمیاتی تبدیلی کے طوفان کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف کمزور ہوتے قوانین، یونینوں پر قدغن اور ناکافی سوشل سیکیورٹی نظام نے اسے بالکل غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں پائلر جیسے اداروں کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔