کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کی براہِ راست ہدایت پر محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی، غبن، سرکاری گندم کے ذخائر میں خردبرد اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان پہنچانے کے سنگین معاملات پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ متعدد فوڈ انسپکٹرز اور سپروائزرز کو ملازمت سے فوری برطرف کر دیا گیا، کئی ذمہ داران کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، اور متعلقہ حکام کو مقدمات درج کرنے کے ساتھ سرکاری نقصان کی مکمل ریکوری یقینی بنانے کے واضح احکامات دے دیے گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں سندھ سول سرونٹس ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

🌾 2.099 ارب+ ایک کیس میں سب سے بڑا نقصان (روپے)
📦 1,88,406 پی پی بیگز — کندھ کوٹ میں کمی
⚖️ 4+ افسران فوری برطرف
📋 6+ فائنل شوکاز نوٹس جاری

قمبر شہدادکوٹ: 65 ہزار سے زائد تھیلے غائب، ایک ارب سے زائد کا نقصان

محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ احکامات کے مطابق ضلع قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ فوڈ ریجن میں تعینات فوڈ انسپکٹر امان اللہ مگسی کو WPC قبو سعید خان میں فصل 2022-23 کے دوران 65 ہزار 393 گندم کے 100 کلوگرام تھیلوں کی خردبرد اور کمی کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ محکمانہ ریکارڈ کے مطابق اس کیس میں سرکاری نقصان 867.111 ملین روپے جبکہ مارک اَپ 327.985 ملین روپے ہے، اور مجموعی واجب الادا رقم ایک ارب 195 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت متعلقہ حکام کو رقم کی وصولی کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

اس بڑے کیس کا پس منظر یہ ہے کہ WPC قبو سعید خان میں سرکاری گندم کا وہ ذخیرہ جو غریب عوام اور کسانوں کے لیے مختص تھا، ذمہ دار افسر نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کھپا دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں واضح ہوا کہ اسٹاک رجسٹرز میں ہیرا پھیری کر کے گندم کی موجودگی ظاہر کی جاتی رہی جبکہ گودام عملاً خالی تھے۔

جیکب آباد: آمیزش اور کمی، فوجداری کارروائی کا حکم

ضلع جیکب آباد، لاڑکانہ فوڈ ریجن کے فوڈ سپروائزر اور انچارج PRC ٹھل زیب علی مگسی کو ایک انتہائی سنگین معاملے میں برطرف کیا گیا۔ ان کے خلاف الزامات دو نوعیت کے تھے: اول، سرکاری گندم کے 37 ہزار 207 پی پی بیگز میں کمی، اور دوم، 17 ہزار 533 پی پی بیگز میں مٹی، گرد و غبار اور خراب دانوں کی آمیزش۔ دونوں الزامات محکمانہ تحقیقات میں ثابت ہو گئے۔ اس کیس میں مجموعی مالی نقصان 596.200 ملین روپے تک پہنچ گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ لاڑکانہ کو ریکوری کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمہ درج کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جو اس کریک ڈاؤن کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

⚡ اہم نکتہ: جیکب آباد کیس میں گندم میں مٹی اور خراب دانوں کی آمیزش ایک الگ جرم ہے — اس سے نہ صرف قومی خزانے کا نقصان ہوا بلکہ عوام کو گھٹیا معیار کی خوراک فراہم کرنے کا سنگین اخلاقی جرم بھی سامنے آیا۔

کشمور کندھ کوٹ: سب سے بڑا اسکینڈل — 2 ارب سے زائد کا نقصان

اس کریک ڈاؤن کا سب سے سنگین کیس ضلع کشمور کندھ کوٹ میں سامنے آیا۔ لاڑکانہ فوڈ ریجن کے فوڈ انسپکٹر ظہیر احمد بروہی کو PRC کندھ کوٹ میں فصل 2022-23 اور 2023-24 کے مجموعی عرصے کے دوران ایک لاکھ 88 ہزار 406 پی پی بیگز، یعنی 10 ہزار 300.447 میٹرک ٹن سرکاری گندم کے اسٹاک میں کمی اور خردبرد کے الزامات پر برطرف کیا گیا۔ یہ واقعہ محکمہ خوراک سندھ کی تاریخ کے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک ہے۔

محکمانہ ریکارڈ کے مطابق اس کیس میں مجموعی واجب الادا رقم 2.099 ارب روپے سے زائد ہے، جس میں ایک ارب 593 کروڑ روپے اصل رقم اور 505.552 ملین روپے مارک اَپ شامل ہے۔ متعلقہ حکام کو سرکاری نقصان کی وصولی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف باضابطہ مقدمات درج کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

نوشہرو فیروز: متعدد افسران کو فائنل شوکاز نوٹس

محکمہ خوراک سندھ نے ضلع نوشہرو فیروز میں بھی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد افسران کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں:

نوشہرو فیروز میں شوکاز نوٹس پانے والے افسران

  • مرتضیٰ اُنڑ (انچارج PRC ڈیربلو) — فصل 2022-23 میں 39 ہزار 550 پی پی بیگز (2 ہزار 264.838 میٹرک ٹن) کمی
  • امداد علی مگسی (فوڈ انسپکٹر، PRC مورو) — 6 ہزار 194 پی پی بیگز (309.700 میٹرک ٹن) کمی
  • نبی بخش لغاری (فوڈ سپروائزر، WPC لاکھا روڈ و کوٹری کبیر) — لاکھا روڈ پر 5 ہزار 376 اور کوٹری کبیر پر 5 ہزار 154 پی پی بیگز کمی
  • بابر علی راجپر (فوڈ انسپکٹر، PRC پڈعیدن) — فائنل شوکاز نوٹس، جواب طلب
  • اللہ ڈنو میمن (فوڈ انسپکٹر، WPC نورپور) — فائنل شوکاز نوٹس جاری
  • نبی بخش لغاری (فوڈ سپروائزر، PRC محرابپور) — ابتدائی جواب غیر تسلی بخش، آخری موقع دیا گیا

تمام متعلقہ افسران کو سات روز کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمانہ نوٹسز میں واضح کیا گیا ہے کہ ابتدائی جوابات غیر تسلی بخش پائے گئے اور افسران الزامات کے خلاف کوئی مؤثر ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں مجاز اتھارٹی یکطرفہ (ایکس پارٹی) فیصلہ کرے گی۔

محکمہ خوراک میں کرپشن، غبن، سرکاری گندم کے ذخائر میں خردبرد اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ جو بھی افسر یا اہلکار عوامی وسائل یا سرکاری امانت میں خیانت کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔

— مخدوم محبوب الزمان وزیر خوراک، حکومتِ سندھ

وزیر خوراک کا واضح پیغام: صرف برطرفی کافی نہیں

وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں صرف چند افراد کے خلاف تادیبی اقدام نہیں بلکہ پورے محکمہ خوراک میں شفافیت، جوابدہی، نظم و ضبط اور عوامی وسائل کے تحفظ کا واضح پیغام ہے۔ انہوں نے زیر التوا شوکاز نوٹسز کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ صرف ملازمت سے برطرفی پر اکتفا نہیں کیا جائے گا — ذمہ دار عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے ریکوری کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بدعنوانی، غبن اور سرکاری گندم کے اسٹاک میں خردبرد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

👤

مخدوم محبوب الزمان

وزیر خوراک، حکومتِ سندھ — کریک ڈاؤن کے حکم دہندہ

👤

سید مراد علی شاہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ — زیرو ٹالرنس پالیسی کے حامی

اس کریک ڈاؤن کی اہمیت کیا ہے؟

محکمہ خوراک سندھ میں گندم خردبرد کا یہ معاملہ کوئی نیا نہیں، لیکن اس بار کارروائی کا دائرہ، رفتار اور شدت غیر معمولی ہے۔ ایک ساتھ متعدد اضلاع — قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، کشمور کندھ کوٹ اور نوشہرو فیروز — میں کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک ضلع یا فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام میں پھیلا ہوا تھا۔ محکمانہ ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹس کی بنیاد پر کی گئی ان کارروائیوں سے نہ صرف مجرم افسران کو سزا ملے گی بلکہ آئندہ کے لیے ایک مضبوط روک بھی قائم ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم ذخائر میں خردبرد دراصل غریب عوام سے سیدھا ڈاکا ڈالنا ہے — کیونکہ یہ گندم سستے نرخوں پر عوام تک پہنچانے کے لیے ہوتی ہے۔ جب یہ گندم غائب ہو جائے تو مارکیٹ میں قیمتیں بڑھتی ہیں اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

عوامی ردعمل

سرکاری گندم کی خردبرد صرف مالی نقصان نہیں — یہ غریبوں کی روٹی کا سوال ہے۔ جو افسر امانت میں خیانت کرے اسے سخت سزا ملنی چاہیے، صرف برطرفی نہیں بلکہ جیل بھی۔
— عوامی ردعمل، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز

اس کریک ڈاؤن کو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ کارروائی صرف چھوٹے افسران تک محدود نہ رہے بلکہ جن اعلیٰ افسران کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا، ان کا بھی احتساب ہو۔ مجموعی طور پر یہ اقدام حکومتِ سندھ کے احتساب کے عزم کی عملی آزمائش ہے — آنے والے دنوں میں دیکھا جائے گا کہ ریکوری اور مقدمات درج کرنے کا عمل کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔