ضمیر عباسی: نیب کے تفتیشی افسر سے سرکاری منصوبوں کے طاقتور افسر تک کا سفر

تحقیقی رپورٹ

ضمیر عباسی: نیب کے تفتیشی افسر سے سرکاری منصوبوں کے طاقتور افسر تک کا سفر، سنگین الزامات ایک بار پھر زیرِ بحث

کراچی | رپورٹ: اشرف سولنگی

سابق ڈی ایس پی سندھ پولیس اور بعد ازاں قومی احتساب بیورو (نیب) کے تحقیقاتی افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ضمیر عباسی ایک مرتبہ پھر عوامی اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث آ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کے مبینہ کرپشن کیس کی تحقیقات کے دوران ضمیر عباسی کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا، جہاں وہ تحقیقاتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

الزامات اور تبصروں کے مطابق اسی عرصے کے دوران ان کے سرکاری روابط اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور بعد ازاں انہیں سندھ سیکریٹریٹ میں مختلف اہم انتظامی عہدوں پر ذمہ داریاں دی گئیں۔

کئی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا کہ اس عرصے کے دوران ان کے اثاثوں اور انتظامی کردار سے متعلق سوالات پیدا ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ یا عدالتی سطح پر حتمی تصدیق عوامی طور پر سامنے نہیں آئی۔

دو سال قبل سندھ ہائی کورٹ میں کوآپریٹو سوسائٹیز کے معاملات کے تناظر میں ان کا نام دوبارہ خبروں کا حصہ بنا، جس کے بعد احتساب، نگرانی اور شفاف تقرریوں کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوئی۔

بعد ازاں انہیں بی آر ٹی منصوبوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر ناقدین نے سوالات اٹھائے کہ سرکاری اداروں میں تعیناتی کا عمل مزید شفاف ہونا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جب احتسابی اداروں سے وابستہ شخصیات خود الزامات کی زد میں آئیں تو عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ کے حوالے سے بحث پیدا ہونا فطری عمل بن جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے خلاف الزامات کو حتمی حقیقت تصور نہیں کیا جا سکتا اور شفاف تحقیقات اور قانونی عمل ہی اصل بنیاد ہونے چاہیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے واضح مؤقف اور شفاف اقدامات اختیار کریں۔

نوٹ: اس رپورٹ میں شامل نکات عوامی دعوؤں اور الزامات کے تناظر میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ اداروں یا عدالتی فیصلوں سے مشروط ہے۔

SEO Title

ضمیر عباسی پر الزامات دوبارہ زیرِ بحث، نیب سے سرکاری منصوبوں تک کا سفر

Meta Description

سابق نیب تحقیقاتی افسر ضمیر عباسی، سرکاری عہدے، الزامات اور احتسابی نظام پر تفصیلی رپورٹ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی