کراچی: لانڈھی ٹاؤن کے چیئرمین عبدالجمیل خان نے وائس چیئرمین محمد عمران اور ٹی ایم سی محمد نواز خان مہر کے ہمراہ پریس بریفنگ کرتے ہوئے لانڈھی ٹاؤن میں جاری ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتائیں۔

چیئرمین نے کہا کہ لانڈھی ٹاؤن میں تقریباً **60 کروڑ روپے** کے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور زیادہ تر منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی

چیئرمین عبدالجمیل خان نے کہا کہ لانڈھی ٹاؤن میں ریٹائرڈ اور وفات پا جانے والے ملازمین کے بقایاجات ایک طویل عرصے سے مسئلہ تھے۔ تاہم انتظامیہ نے اب تک **30 کروڑ روپے** سے زائد کے بقایاجات ادا کر دیے ہیں اور برسوں پرانے تمام بقایاجات کلیر کر دیے گئے ہیں۔

پارکوں کی بحالی اور گرین بیلٹس

انہوں نے بتایا کہ 30 سے زائد تباہ حال پارکوں کی بحالی مکمل کر لی گئی ہے۔ متعدد گرین بیلٹس سے تجاوزات ختم کرکے انہیں صاف ستھرا اور عوام کے استعمال کے قابل بنایا گیا ہے۔

سیوریج اور پانی کے نظام میں بہتری

چیئرمین نے کہا کہ اگرچہ سیوریج کا نظام ٹاؤن کی براہ راست ذمہ داری نہیں، پھر بھی عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے **50 ہزار رننگ فٹ** سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی گئیں اور **1500 سے زائد** مین ہولز تعمیر کیے گئے۔

اسی طرح پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے **18 ہزار رننگ فٹ** نئی واٹر لائنیں بچھائی گئیں۔ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نالوں کی صفائی کے ساتھ **12 کلورٹس** بھی تعمیر کیے گئے۔

سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر

اب تک **11 اہم سڑکوں** کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے جبکہ **600 پیور بلاک گلیوں** کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ 463 گلیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ 2 ہزار سے زائد ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس بھی نصب کی جا چکی ہیں۔

تعلیم اور نوجوانوں کے لیے اقدامات

لانڈھی ساڑھے پانچ نمبر پر **مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر** قائم کیا گیا ہے۔ مختلف یوسیز میں ماڈل محلوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے **یوتھ ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ** قائم کیا گیا جہاں 15 مختلف فنی کورسز مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 3 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے کورسز مکمل کر لیے ہیں جبکہ 600 سے زائد زیر تربیت ہیں۔

بچوں میں مطالعے کے فروغ کے لیے **کڈز لائبریری** اور **ای لائبریری** بھی قائم کی گئی ہے۔

سندھ حکومت پر تنقید

چیئرمین عبدالجمیل خان نے کہا کہ سندھ حکومت نے لانڈھی ٹاؤن کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔ تمام کام اپنے وسائل اور او زیڈ ٹی سے بچت کرکے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے میئر کے ماتحت ہیں مگر اپنا کام نہیں کر رہے۔ عوام پانی سے محروم ہے۔

مستقبل کے عزائم

چیئرمین نے کہا کہ ہم 600 گلیاں مکمل کریں گے، ہر یوسی میں ماڈل محلہ بنائیں گے اور تمام شعبوں میں ترقی کے کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "نیت صاف ہو، دیانتداری سے کام کیا جائے تو محدود وسائل میں بھی بڑے بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔"

اہم اعداد و شمار:
• ترقیاتی منصوبے: 60 کروڑ روپے
• ملازمین بقایاجات: 30 کروڑ روپے ادا
• گلیاں: 600 (463 مکمل)
• سیوریج لائنز: 50 ہزار رننگ فٹ
• واٹر لائنز: 18 ہزار رننگ فٹ