حیدرآباد:
نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈویلپمنٹ فورم (این ڈی ایف) پاکستان کے صدر عابد لاشاری نے حکومتِ سندھ پر زور دیا ہے کہ وہ صوبے کے تمام محکموں میں حال ہی میں اعلان کردہ بی پی ایس-01 سے بی پی ایس-04 تک معذور افراد کے لیے 5 فیصد ملازمت کوٹہ پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
5 فیصد کوٹہ ایک قانونی حق ہے
معذور افراد کے روزگار کے حقوق پر گفتگو کرتے ہوئے عابد لاشاری نے کہا کہ 5 فیصد ملازمت کوٹہ ایک قانونی حق ہے، جس کا واضح ذکر سندھ کے معذور افراد سے متعلق قوانین اور پالیسیوں میں موجود ہے، تاہم اس پر عمل درآمد تاحال کمزور ہے، بالخصوص نچلے گریڈز میں جہاں معذور افراد کے لیے روزگار کے مواقع نسبتاً زیادہ قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔
“واضح قوانین اور نوٹیفکیشنز کے باوجود کئی سرکاری محکمے اس کوٹہ کو یا تو نظرانداز کرتے ہیں یا جزوی طور پر نافذ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں اہل معذور افراد بے روزگار رہ جاتے ہیں۔”
نچلے گریڈز روزگار میں شمولیت کا اہم ذریعہ
انہوں نے کہا کہ بی پی ایس-01 سے بی پی ایس-04 تک کی ملازمتیں، جن میں معاون اور بنیادی سروسز سے متعلق عہدے شامل ہیں، معذور افراد کی معاشی شمولیت، باعزت زندگی اور خود انحصاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ اس کوٹہ پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے۔
شفاف بھرتی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ
عابد لاشاری نے سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD)، سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) اور صوبے کے تمام محکموں سے مطالبہ کیا کہ وہ معذوری سے متعلق درست اور جامع اعداد و شمار مرتب کریں، شفاف بھرتی کے عمل کو یقینی بنائیں اور کوٹہ پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ نگرانی اور تعمیلی رپورٹس تیار کریں۔
“معذور افراد کی مؤثر کارکردگی کے لیے قابلِ رسائی دفاتر، مناسب سہولتوں اور امتیاز سے پاک بھرتی کے نظام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔”
حقوق، سماجی انصاف اور آئینی ذمہ داری
آخر میں عابد لاشاری نے کہا کہ بی پی ایس-01 سے بی پی ایس-04 میں 5 فیصد ملازمت کوٹہ کو یقینی بنانا کوئی خیرات نہیں بلکہ حقوق، سماجی انصاف اور آئینی ذمہ داری کا تقاضا ہے، اور اس پر مکمل عمل درآمد ایک شمولیتی، منصفانہ اور باوقار سندھ کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔