کراچی: جوہر کامپلیکس ریزیڈنس ویلفیئر انتظامیہ کی مبینہ بدانتظامی، کرپشن اور مجرمانہ سرگرمیوں پر چشم پوشی کے خلاف مکینوں نے زبردست احتجاج کیا، جس کے باعث پورا علاقہ احتجاجی نعروں سے گونج اٹھا۔ مظاہرین نے انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث جوہر کامپلیکس کچرے، گندگی اور بدبو کا مرکز بن چکا ہے۔ صفائی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ سیوریج اوور فلو روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جس نے مکینوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
“ہم بارہا انتظامیہ کو شکایات درج کرا چکے ہیں، مگر آج تک کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا،”
— احتجاجی مکین
احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ کامپلیکس میں بجلی چوری، غیر اخلاقی سرگرمیوں اور فحاشی کے مبینہ اڈوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مکینوں کے مطابق شکایات کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس پر مجبوراً انہیں سڑکوں پر آنا پڑا۔
“یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ کھلی کرپشن ہے، جس پر متعلقہ اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے،”
— ایک مظاہرین کا مؤقف
احتجاج میں شریک مکینوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور شدید نعرے بازی کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ مظاہرین میں سکندر علی جمانی، سید عرفان شاہ، انیس کورائی، شیراز سولنگی، معروف سولنگی، ریاض جمانی، پپن شیخ، وحید احمد، میڈم حلیمہ اکرم، نثار میمن، زاہد شاہ، کاشف علی، الٰہی بخش، بُخَت علی، سردار کورائی، وڈیرو غلام مصطفیٰ منگی، نوید سومرو، عبدالاحد، سہیل احمد اور منتظر شیخ شامل تھے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ سرکاری ادارے فوری طور پر جوہر کامپلیکس کا دورہ کریں، انتظامیہ کے مالی معاملات اور سرگرمیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
“اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور شہر بھر میں آواز بلند کی جائے گی،”
— احتجاجی مظاہرین
احتجاجی مکینوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے۔