Peoples Tv Pakistan

نیو کراچی ٹاؤن میں کھلے مین ہولز کے خلاف خصوصی مہم، چیئرمین محمد یوسف خود فیلڈ میں متحرک

نیو کراچی ٹاؤن میں مین ہول ڈھکن لگانے کی خصوصی مہم کا آغاز

کراچی | مورخہ: 12 دسمبر 2025
Chairman New Karachi Town Muhammad Yousuf inspecting manhole cover installation

چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ٹاؤن کی حدود میں بغیر ڈھکن کے کھلے مین ہولز پر فوری طور پر ڈھکن لگانے کی خصوصی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ چیئرمین روزانہ اپنی ٹیم، افسران اور عملے کے ہمراہ مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور کھلے مین ہولز کی نشاندہی کے بعد موقع پر ہی ڈھکن لگوانے کے احکامات جاری کر رہے ہیں۔

چیئرمین محمد یوسف کا کہنا ہے کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں، خصوصاً جب بات معصوم بچوں کی زندگیوں کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں گلشنِ اقبال ٹاؤن میں تین سالہ بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ پورے شہر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

“اگر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا اور شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں تو ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ہم اپنے ٹاؤن کے وسائل استعمال کرکے اپنے عوام اور بچوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔” — چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف

چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن نے شہر کے مجموعی بلدیاتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں کھلے مین ہولز کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی بلدیاتی ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تو ٹاؤن انتظامیہ پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

“ہمیں عوامی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا، مگر بڑے اداروں کی غفلت شہریوں کو خطرات میں ڈال رہی ہے۔” — محمد یوسف

چیئرمین نے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام اداروں کو عملی طور پر متحرک ہونا ہوگا۔

عوامی حلقوں کی جانب سے چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن کے اس فوری، عملی اور فیلڈ میں موجود اقدام کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مہم شہر بھر میں دیگر بلدیاتی اداروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال ثابت ہوگی اور مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے گا۔

رپورٹ: اسٹاف رپورٹر | شہر: کراچی
Tags: نیو کراچی ٹاؤن، محمد یوسف، مین ہول ڈھکن، شہری مسائل، بلدیاتی نظام، کراچی

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی