شہریوں کی جانوں کے تحفظ کا عملی اقدام، نیو کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار مین ہول کورز کی مفت تقسیم

Free Distribution of 1000 Manhole Covers in New Karachi Town to Protect Citizens’ Lives

مورخہ: 14 جنوری 2026ء

کراچی: نیو کراچی ٹاؤن پاور ہاؤس چورنگی پر شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک ہزار مین ہول کورز کی مفت تقسیم کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر، امیر جماعتِ اسلامی ضلع شمالی مجتبیٰ طارق، تمام یوسیز کے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز، ٹاؤن افسران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

Free distribution of 1000 manhole covers at Power House Chowrangi New Karachi Town

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا:

"نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے بچوں اور شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے ٹاؤن فنڈ سے ایک ہزار مین ہول کورز کی فراہمی کا عملی اور جرأت مندانہ اقدام اٹھایا۔"

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث درجنوں معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ایسے حالات میں عوامی نمائندوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔

"اگر کوئی ادارہ یا نمائندہ عوامی جانوں کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے تو یہ قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید عمل ہے۔"

منعم ظفر خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کا کراچی کے حوالے سے کوئی واضح اور عوام دوست ویژن نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا:

"مرتضیٰ وہاب اپنے ڈھائی سالہ دور میں کراچی کو کون سا بڑا اور مکمل منصوبہ دے سکے؟ آج بھی شہر ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں اور پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔"

انہوں نے کہا کہ واٹر ٹینکر مافیا آج بھی سرگرم ہے، منگھوپیر سمیت مختلف علاقوں میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس موجود ہیں، جہاں سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں جبکہ عوام مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:

"جماعتِ اسلامی اختیارات سے بڑھ کر کراچی کی خدمت کر رہی ہے، پارکوں کی بحالی، کھیل کے میدانوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس، پیور بلاک منصوبے اور سیوریج و پانی کے مسائل کا حل ہماری عملی سیاست کا ثبوت ہے۔"

اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"کراچی کے عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں جبکہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ آئے دن دلخراش واقعات سامنے آتے ہیں جن میں معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، اسی صورتحال کے پیشِ نظر نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے وسائل سے ایک ہزار مین ہول کورز مفت تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

"ہم محض بیانات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات کرتے ہیں، ایک ہزار مین ہول کورز کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔"

چیئرمین محمد یوسف نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران نیو کراچی ٹاؤن میں سیوریج کے منصوبوں پر تقریباً نو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، حالانکہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ٹاؤن کی ڈومین میں شامل نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا:

"عوامی مفاد کے تحت بیس ہزار گھروں تک پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی، حالانکہ یہ ہمارے اختیارات میں شامل نہیں تھا۔"

انہوں نے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتائے کہ ڈھائی سال میں نیو کراچی ٹاؤن میں کتنی سیوریج اور پانی کی لائنیں ڈالی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی پانی کی سپلائی چلتی ہے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، مگر ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ادارے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

آخر میں چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے کہا:

"ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اختیار سے بڑھ کر کام کریں گے اور ان شاءاللہ یہ سفر عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔"

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی