پی ایس کیو سی اے میں ڈیجیٹل انقلاب، جعلی اشیا کے خاتمے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف
کراچی: وفاقی حکومت نے پاکستان میں معیار، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں ڈیجیٹل اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی پارلیمانی سیکریٹری نکہت شکیل خان نے پی ایس کیو سی اے ہیڈکوارٹرز کا اعلیٰ سطحی دورہ کیا۔
"جدید دور کا صارف فوری تصدیق چاہتا ہے، اب ہر شہری صرف کیو آر کوڈ اسکین کر کے یہ جان سکے گا کہ مصنوعات اصلی ہے یا نہیں اور قومی معیار پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔"
نکہت شکیل خان نے پی ایس کیو سی اے کو ہدایت دی کہ تمام مصدقہ مصنوعات پر کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیقی نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ جعلی، غیر معیاری اور مضر صحت اشیا کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوام کے لیے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ثابت ہوگا۔
پارلیمانی سیکریٹری نے مارکیٹ نگرانی، کنفارمٹی اسیسمنٹ اور فیلڈ ریڈز کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری اشیا کو مارکیٹ سے نکالنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیو آر کوڈ سسٹم ریگولیٹر اور عوام کے درمیان اعتماد کو فروغ دے گا۔
"کیو آر کوڈ سسٹم شفافیت کو یقینی بنائے گا اور مقامی صنعت پر عوامی اعتماد میں اضافہ کرے گا۔"
پی ایس کیو سی اے کی اعلیٰ انتظامیہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے درآمد و برآمد کے عمل کو سہل بنانے کے لیے سنگل ونڈو سسٹم نافذ کر دیا ہے، جس کے ذریعے کوالٹی لائسنس تیزی سے جاری کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پی ایس کیو سی اے ملک بھر میں 32 جدید لیبارٹریز کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران 2,261 نئے کوالٹی لائسنس جاری کیے گئے، جو صنعتی شعبے میں معیار پر عمل درآمد کا واضح ثبوت ہیں۔
حکومت کے "گرین پاکستان" وژن کے تحت نکہت شکیل خان نے پی ایس کیو سی اے ہیڈکوارٹرز میں پودا بھی لگایا اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔