Peoples Tv Pakistan

میری کامیابی کے پیچھے عورت ہے اور وہ میری ماں ہے ۔عابد لاشاری

میری کامیابی کے پیچھے عورت ہے — اور وہ میری ماں ہے، عابد لاشاری

سانا کے زیرِ اہتمام خواتین کنونشن حیدرآباد میں خواتین کے بااختیار بنانے پر مؤثر خطاب

حیدرآباد: (اسٹاف رپورٹر)

Abid Lashari addressing SANA Women Convention in Hyderabad
سانا خواتین کنونشن حیدرآباد سے خطاب کرتے ہوئے این ڈی ایف پاکستان کے صدر عابد لاشاری

سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کی جانب سے منعقدہ خواتین کنونشن حیدرآباد سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈویلپمنٹ فورم (این ڈی ایف) پاکستان کے صدر عابد لاشاری نے خواتین کے بااختیار بنانے، ذاتی کامیابی اور سماجی ترقی میں عورت کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔

"میری کامیابی کے پیچھے عورت ہے — اور وہ میری ماں ہے۔" عابد لاشاری، صدر این ڈی ایف پاکستان

عابد لاشاری نے بتایا کہ ان کی زندگی میں سب سے بڑی طاقت اور حوصلہ ان کی والدہ ہیں، جنہوں نے بچپن میں پیش آنے والے ایک افسوسناک آگ لگنے کے حادثے کے بعد، جس میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے، انہیں حوصلہ، اعتماد اور خودمختاری کا درس دیا۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کی والدہ پیشہ ور تھراپسٹ نہیں تھیں، مگر ماں سے بڑی کوئی تھراپسٹ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ "آج میں جو کچھ بھی ہوں، اپنی ماں کی ہمت، محبت اور یقین کی بدولت ہوں۔"

اپنے خاندان میں خواتین کی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے عابد لاشاری نے کہا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ سائرہ لاشاری کو سماجی اور معاشی طور پر بااختیار بنایا، جو اس وقت پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن (PDSA) کراچی کی صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گھر میں خواتین کو بااختیار بنانا معاشرے کو مضبوط قیادت فراہم کرتا ہے اور یہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔

Abid Lashari addressing SANA Women Convention in Hyderabad
سانا خواتین کنونشن حیدرآباد سے خطاب کرتے ہوئے این ڈی ایف پاکستان کے صدر عابد لاشاری

انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایف کے ذریعے سندھ بھر میں 700 سے زائد ذہنی معذوری رکھنے والے بچوں کو تعلیم، بحالی اور امید فراہم کی جا رہی ہے، جن کے مراکز نوابشاہ، لاڑکانہ، حیدرآباد اور کراچی میں قائم ہیں۔ یہ منصوبے محکمہ افرادِ باہم معذوری (DEPD)، حکومتِ سندھ، سانا اور مخیر حضرات کے تعاون سے جاری ہیں۔

خواتین کے معاشی حقوق پر بات کرتے ہوئے عابد لاشاری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہنوں کو ان کا جائز وراثتی حق دلایا، اگرچہ اس پر بعض رشتہ داروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک مثبت سماجی تبدیلی ثابت ہوا اور اب دیگر خواتین بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں، جو حقیقی معنوں میں بااختیاری کی علامت ہے۔

نئی نسل کی تعلیم اور بااختیاری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نور فاطمہ عابد لاشاری کو تعلیمی میدان میں بھرپور تعاون فراہم کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اسکالرشپ حاصل کی اور اس وقت چین کی ایک یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

خطاب کے اختتام پر عابد لاشاری نے زور دیا کہ پاکستان میں خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ جامع ترقی، صنفی انصاف اور پائیدار پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

"جب خواتین بااختیار ہوتی ہیں تو خاندان مضبوط ہوتے ہیں، معاشرے ترقی کرتے ہیں اور قومیں آگے بڑھتی ہیں۔"

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی