نیو کراچی ٹاؤن، سیکٹر 5.J میں 14 گلیوں میں پیور بلاک کی تنصیب اور اسٹریٹ لائٹس کا کام مکمل کر لیا گیا، جبکہ قاسم اسٹیڈیم سے سیکٹر 5.J تک 36 انچ کی نئی سیوریج لائن بھی بچھا دی گئی ہے، جس سے علاقے کے دیرینہ سیوریج مسائل بڑی حد تک حل ہو گئے ہیں۔
مورخہ: 12 جنوری 2026ء
نیو کراچی ٹاؤن کے سیکٹر 5.J میں 14 گلیوں میں پیور بلاک کی تنصیب اور لائٹس کی تنصیب کا باضابطہ افتتاح چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ایک پروقار تقریب میں کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر، یوسی چیئرمین راجہ عطاالرحمن، وائس یوسی چیئرمین توقیر خان، وارڈ کونسلرز نثار احمد اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ سیکٹر 5.J میں بلدیاتی سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل نظرانداز ہوتا چلا آ رہا تھا، جہاں سیوریج اور پانی کے مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی تھی، اور گزشتہ 27 برسوں میں کسی بھی سیاسی جماعت نے یہاں کوئی مؤثر ترقیاتی کام نہیں کرایا۔
انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے فوراً بعد انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ گلیوں کو پختہ کیا جائے گا اور بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے، مگر سب سے بڑا مسئلہ سیوریج اور پانی کا تھا۔ بارش کے بعد لاڑکانہ بیکری سے ناصرہ اسکول تک ہفتوں پانی کھڑا رہتا تھا کیونکہ سیکٹر 5.J کی مرکزی 36 انچ سیوریج لائن مکمل طور پر بیٹھ چکی تھی۔
چیئرمین محمد یوسف کے مطابق واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، مگر فنڈز کی کمی کا جواز بنا کر معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔ بعد ازاں واٹر کارپوریشن کے تکنیکی عملے نے نشاندہی کی کہ اگر قاسم اسٹیڈیم سے سیکٹر 5.J تک نئی 36 انچ سیوریج لائن ڈال دی جائے تو مسئلہ مستقل طور پر حل ہو سکتا ہے۔ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے فنڈز سے یہ لائن بچھائی، جس کے بعد علاقے کے سیوریج مسائل میں نمایاں بہتری آئی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سیکٹر 5.J کی 100 گلیوں میں پیور بلاک لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جن میں سے 14 گلیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی گلیوں میں کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے، آئندہ مرحلے میں لاڑکانہ بیکری سے ناصرہ اسکول تک سڑک کی تعمیر اور اس کے بعد اقصیٰ پارک کی تکمیل بھی کی جائے گی۔
چیئرمین محمد یوسف نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی رہی، جن کے ذمے کے کئی کام نیو کراچی ٹاؤن کو عوامی مفاد میں خود کرانے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 47 ارب روپے ہے، اس کے باوجود ادارہ ایک گٹر کا ڈھکن فراہم کرنے سے قاصر ہے، جبکہ نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے محدود وسائل سے سیوریج اور پانی کی لائنوں پر 9 کروڑ روپے خرچ کیے، حالانکہ یہ ٹاؤن کی بنیادی ذمہ داری نہیں تھی۔
انہوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کا بجٹ 55 ارب روپے ہے اور شہر کی 106 بڑی سڑکیں اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ اگر 60 دن میں 106 سڑکیں بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو 90 دن گزرنے کے باوجود عوام کو بتایا جائے کہ اب تک کتنی سڑکیں مکمل ہوئیں؟ انہوں نے کہا کہ کراچی کی بیشتر سڑکیں آج بھی موہنجو دڑو کا منظر پیش کر رہی ہیں، جن میں نیو کراچی ٹاؤن کی شفیق موڑ تا اللہ والی چورنگی سڑک بھی شامل ہے، جو ڈھائی سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہ ہو سکی۔
چیئرمین نے بتایا کہ عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے فنڈز سے اس سڑک کے ایک حصے کی تعمیر مکمل کر دی ہے، تاہم پورا منصوبہ ٹاؤن کی مالی استطاعت سے باہر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے ایم سی شہر کی بڑی سڑکوں کی تعمیر پر فوری توجہ دے۔
آخر میں چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث 27 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے 14 جنوری بروز بدھ، پاور ہاؤس چورنگی پر دوپہر ڈھائی بجے سے رات 10 بجے تک شناختی کارڈ اور مین ہول کی تصویر دکھانے پر نیو کراچی ٹاؤن کی جانب سے مفت گٹر ڈھکن فراہم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعد جب انہوں نے سیکٹر 5.J کا دورہ کیا تو بلدیاتی مسائل اپنی انتہا پر تھے، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گٹر معمول بن چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کی ٹیم نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں، جس پر علاقے کے عوام مطمئن اور خوش ہیں۔