Peoples Tv Pakistan

کراچی میں قبضہ مافیا بے لگام، پلاٹ نمبر SL-7 بلاک 6 پر تنازع خونریز شکل اختیار کرچکا

کراچی میں قبضہ مافیا بے لگام، پلاٹ نمبر SL-7 بلاک 6 پر تنازع خونریز شکل اختیار کرچکا

کراچی ضلع شرقی میں قبضہ مافیا کی کارروائی پلاٹ SL-7 بلاک 6

کراچی کے ضلع شرقی میں قبضہ مافیا ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن صفورہ اور تھانہ گلستانِ جوہر کی حدود میں واقع جوہر کامپلکس کے سامنے مرکزی سڑک پر، پلاٹ نمبر SL-7 بلاک 6 پر ناظم آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر بلڈر کی جانب سے رات کے اندھیرے میں مبینہ طور پر قبضے کی کوشش کی گئی، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

تفصیلات کے مطابق رات گئے بھاری مشینری اور درجنوں افراد کے ہمراہ متنازع پلاٹ اور سڑک کے حصے پر کام شروع کیا گیا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق کارروائی دانستہ طور پر رات کے وقت کی گئی تاکہ عوامی مزاحمت سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین اور سڑک سرکاری ملکیت ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کی تعمیر کھلے عام قانون شکنی کے مترادف ہے۔

ماضی میں قتل، پولیس افسران کی تبدیلیاں

معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس پلاٹ پر قبضے کے تنازع کے دوران ماضی میں دو افراد قتل ہو چکے ہیں، جبکہ اسی متنازع زمین کے باعث تھانہ گلستانِ جوہر کے تین ایس ایچ اوز تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود قبضہ مافیا کا دوبارہ متحرک ہونا پولیس کی کارکردگی اور نیت پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

پولیس پر مبینہ سرپرستی کے الزامات

"پولیس موقع پر موجود تھی، مگر قبضہ مافیا کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہی، جس کی وجہ سے ہم مزاحمت نہ کر سکے۔"
— علاقہ مکین

علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ گلستانِ جوہر کے ساتھ ساتھ گلشن تھانے کی پولیس بھی موقع پر موجود رہی اور مبینہ طور پر قبضہ مافیا کو سکیورٹی فراہم کرتی رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی کے باعث وہ کسی قسم کی مزاحمت نہ کر سکے۔

قانونی حیثیت پر سنگین سوالات

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب یہی پلاٹ ماضی میں قتل جیسے سنگین واقعات کا سبب بن چکا ہے تو اب تک اس کا قانونی اسٹیٹس واضح کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر پلاٹ نمبر SL-7 بلاک 6 سرکاری ریکارڈ میں متنازع یا عوامی استعمال کے لیے مختص ہے تو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کس قانون کے تحت بلڈر کی سرپرستی کر رہی ہے؟

اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

سماجی حلقوں اور مقامی نمائندوں نے اس واقعے کو کراچی میں جاری لینڈ مافیا، پولیس ملی بھگت اور انتظامی کمزوری کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر کراچی، ڈی سی ایسٹ، ڈی جی کے ڈی اے، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ایسٹ فوری طور پر نوٹس لیں، سابقہ قتل کے مقدمات اور حالیہ قبضے کی کوشش کی مشترکہ تحقیقات کرائیں، اور ملوث بلڈر سمیت سہولت کار پولیس افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

"اگر اس خونریز تنازع کو فوری طور پر قانون کے مطابق حل نہ کیا گیا تو کسی بڑے سانحے کا خدشہ خارج از امکان نہیں۔"
— علاقہ مکین

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی