کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں منشیات فروشی خطرناک حد تک پھیل چکی ہے، جس کے باعث علاقہ مکین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق الفلاح چوک، خوشحال چوک اور جنگل سائٹ کے اطراف اسلحہ بردار افراد کھلے عام مہلک منشیات فروخت کر رہے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی مؤثر نظر نہیں آتی۔
ذرائع کے مطابق یہ منشیات نیٹ ورک بدنامِ زمانہ گینگ کے سرغنہ وقاص عرف وقاص شوٹر کی مبینہ سرپرستی میں سرگرم ہے۔ نیٹ ورک میں سہیل عرف ملا، وسیم عرف دائم، ایوب ملا، گل خان عرف لنگڑا (ایوب ملا کا بھائی)، اسد عرف پاڑو کا بیٹا، چھوٹا وقاص، خالد عرف کے کے اور عمر عرف باجوڑی شامل بتائے جاتے ہیں، جو مچھر کالونی میں مبینہ طور پر مکمل طور پر ایکٹیو ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عناصر نے علاقے کے متعدد رہائشی گھروں کو منشیات کی پیکنگ، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے خفیہ مراکز میں تبدیل کر رکھا ہے، جس سے نہ صرف نوجوان نسل تباہی کی جانب جا رہی ہے بلکہ علاقائی امن بھی شدید خطرے میں ہے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کی مبینہ چشم پوشی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ منشیات فروش خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور اسلحے کے زور پر خوف کی فضا قائم کیے ہوئے ہیں۔
عوامی حلقوں اور سماجی رہنماؤں نے سندھ رینجرز، اعلیٰ پولیس حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر فوری اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں، بصورت دیگر مچھر کالونی کے مکمل طور پر منشیات مافیا کے قبضے میں جانے کا شدید خدشہ ہے۔