سندھ گندم اسکینڈل 2026: محکمہ خوراک میں اربوں روپے کی خورد برد کا انکشاف
کراچی (ایکسکلوسو رپورٹ: ظہور احمد سروہی)
محکمہ خوراک سندھ میں گندم کی مبینہ خورد برد کا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سرکاری سطح پر تحقیقات اور کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری گندم کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد متعدد افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گندم اسکینڈل سندھ: 91 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد
محکمہ خوراک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فوڈ انسپکٹر نادر علی مگسی کو 91 کروڑ روپے مالیت کی گندم غبن کرنے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ضلع سجاول میں 40 ہزار سے زائد گندم کی بوریاں ریکارڈ سے غائب پائی گئیں جبکہ کوٹ غلام محمد کے گوداموں میں بھی 9 ہزار سے زیادہ گندم کی بوریاں مبینہ طور پر لاپتہ ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں
انکوائری رپورٹ اور محکمانہ کارروائیاں
ذرائع کے مطابق متعلقہ افسر کو پہلے شوکاز اور بعد ازاں فائنل شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم وہ اپنی صفائی میں قابل قبول شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس صورتحال کے بعد محکمہ خوراک سندھ نے انہیں فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔
مزید اطلاعات کے مطابق گندم اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران اس سے قبل بھی 6 افسران کو ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 22 افسران کو معطل اور 33 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
"محکمہ خوراک کے ایک سینئر افسر کے مطابق سرکاری گندم کی حفاظت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری رہیں گے اور کسی بھی ذمہ دار اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔"
گندم بحران اور سرکاری نگرانی
ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے نظام میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ایسے اسکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ حالیہ تحقیقات کے بعد گوداموں کے ریکارڈ، اسٹاک مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سرکاری گندم کی خورد برد کو روکا جا سکے۔
یہ معاملہ نہ صرف محکمہ خوراک سندھ کے انتظامی ڈھانچے پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ صوبے میں گندم کی دستیابی، قیمتوں کے استحکام اور عوامی اعتماد کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔