متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں قانونی فریم ورک اہم کردار ادا کر رہا ہے، ABA Legal
دبئی، متحدہ عرب امارات | 26 فروری 2026
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور پرکشش مرکز کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ جدید معاشی پالیسیوں، کاروبار دوست قوانین اور شفاف قانونی نظام کی بدولت دنیا بھر کے سرمایہ کار اس خطے کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ابو ظہبی میں قائم کارپوریٹ قانونی مشاورتی ادارے ABA Legal نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متحدہ عرب امارات کے قانونی ڈھانچے کو بہتر انداز میں سمجھانے اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی خصوصی سروس Legal Structure Mapping کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
یہ اقدام دراصل اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات خود کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری اور تجارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔ ABA Legal کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں عالمی سرمایہ کار کسی بھی نئے ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس کے قانونی نظام، سرمایہ کاروں کے حقوق، کاروباری شفافیت اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے ایک ایسا قانونی مشاورتی نظام متعارف کرایا ہے جو سرمایہ کاروں کو واضح رہنمائی فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : دبئی محفوظ اور مضبوط معیشت کا حامل شہر ہے، ترقی کا سفر جاری رہے گا: رضوان ساجن
حکومتی اور صنعتی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری یعنی Foreign Direct Investment (FDI) کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک نے اپنے قانونی اور ریگولیٹری نظام کو مسلسل جدید بنایا ہے تاکہ عالمی سرمایہ کاروں کو زیادہ اعتماد اور سہولت فراہم کی جا سکے۔
ABA Legal کے مطابق سرمایہ کاروں کے فیصلوں میں قانونی وضاحت، ریگولیٹری استحکام اور شفاف کاروباری ڈھانچہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ آج کے کاروباری ماحول میں کمپنیاں کسی بھی نئے ملک میں سرمایہ کاری سے قبل ملک کے قوانین، ملکیتی ڈھانچے، سرمایہ کی حفاظت اور معاہدوں کے نفاذ کے نظام کو تفصیل سے جانچتی ہیں۔
“متحدہ عرب امارات کا قانونی فریم ورک آج نہ صرف جدید بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی توقعات کے مطابق انتہائی لچکدار اور مؤثر ہے۔”
— مس گیتھا لکشمی رام چندرن، منیجنگ کونسل ABA Legal
ABA Legal کی منیجنگ کونسل مس گیتھا لکشمی رام چندرن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں کے لیے اپنے قوانین میں نمایاں اصلاحات کی ہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں غیر ملکی ملکیت، کارپوریٹ گورننس، تنازعات کے حل کے نظام اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے قوانین کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “آج ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم عالمی سرمایہ کاروں کو ان اصلاحات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کریں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں داخل ہو سکیں اور طویل مدتی کاروباری منصوبے تشکیل دے سکیں۔”
قانونی اصلاحات کا نیا دور
متحدہ عرب امارات میں حالیہ برسوں کے دوران قانونی اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ان اصلاحات میں سب سے نمایاں تبدیلی غیر ملکی ملکیت کے قوانین میں کی گئی ہے۔ ماضی میں متعدد کاروباری شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مقامی شراکت دار کی ضرورت ہوتی تھی، تاہم اب کئی اہم شعبوں میں 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : GFS Developments کا دبئی میں شاندار آغاز: عائزہ خان کے ساتھ خصوصی ملاقات کا موقع
یہ تبدیلی ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، پیشہ ورانہ خدمات اور دیگر اہم شعبوں میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر رہی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے سرمایہ کاروں کو اپنے کاروبار کے انتظام، حکمت عملی اور منافع پر مکمل اختیار حاصل ہو جاتا ہے، جس سے کاروباری شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
معاہدوں کے نفاذ اور تنازعات کے حل کا مضبوط نظام
کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ وہاں معاہدوں کے نفاذ اور تنازعات کے حل کا نظام مضبوط اور مؤثر ہو۔ اسی مقصد کے تحت متحدہ عرب امارات نے اپنے عدالتی اور قانونی نظام کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنایا ہے۔
ملک میں قائم خصوصی عدالتیں اور بین الاقوامی معیار کے ثالثی مراکز سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی فراہم کرتے ہیں کہ کسی بھی تجارتی تنازعے کی صورت میں منصفانہ اور تیز رفتار انصاف فراہم کیا جائے گا۔ اس نظام کے باعث سرمایہ کاروں کے قانونی خدشات کم ہوتے ہیں اور وہ طویل مدتی کاروباری منصوبوں پر زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
شفافیت، گورننس اور سرمایہ کاروں کا تحفظ
متحدہ عرب امارات نے کارپوریٹ گورننس اور مالیاتی شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں سخت رپورٹنگ قوانین، اینٹی منی لانڈرنگ ضوابط اور مالیاتی نگرانی کے جدید نظام شامل ہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری ماحول زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بن گیا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے یہ اقدامات انتہائی اہم ہیں کیونکہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کم ہو اور کاروبار عالمی معیار کے مطابق شفاف قوانین کے تحت چلایا جائے۔
فری زونز کی اہمیت
متحدہ عرب امارات کے مختلف فری زونز بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان زونز میں سرمایہ کاروں کو مکمل غیر ملکی ملکیت، ٹیکس میں رعایت، سرمایہ کی آزادانہ منتقلی اور آسان کاروباری رجسٹریشن جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
فری زونز کو مخصوص صنعتوں کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے باعث ٹیکنالوجی، میڈیا، تجارت اور صنعتی شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو خصوصی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اس ماڈل نے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے متحدہ عرب امارات کو ایک انتہائی پرکشش کاروباری منزل بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت اور دانشورانہ املاک کا تحفظ
حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے بھی متعدد قوانین متعارف کرائے ہیں۔ ڈیٹا پروٹیکشن قوانین، دانشورانہ املاک کے تحفظ کے نظام اور جدید تجارتی قوانین نے جدت پر مبنی کاروباروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 24 قیراط سونے کی چمک کے ساتھ! دبئی میں دنیا کی سب سے مہنگی ماک ٹیل کی شاندار نمائش ۔
یہ اقدامات نہ صرف نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو متوجہ کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر جدت اور تحقیق پر مبنی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی معیشت زیادہ تر علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی۔
“متحدہ عرب امارات کا قانونی نظام عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نہ صرف محفوظ بلکہ ایک متحرک معاشی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔”
ABA Legal کے مطابق کمپنی کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں کو اس پیچیدہ مگر انتہائی مؤثر قانونی نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ واضح حکمت عملی کے ساتھ کاروباری منصوبے تشکیل دے سکیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے قانونی ماہرین سرمایہ کاروں کو کمپنی رجسٹریشن، قانونی ڈھانچے، ریگولیٹری تقاضوں اور مارکیٹ میں داخلے کے مراحل میں مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ قانونی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہا تو متحدہ عرب امارات آنے والے برسوں میں عالمی سرمایہ کاری کا ایک اور بڑا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔ ایسے میں ABA Legal جیسے ادارے سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباری ماحول کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کاروباری ماہرین کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کے لیے متحدہ عرب امارات صرف ایک سرمایہ کاری کی منزل نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے جہاں سے وہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کمپنیاں تیزی سے اس خطے میں اپنے دفاتر قائم کر رہی ہیں۔
ABA Legal کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی وہ سرمایہ کاروں کو قانونی رہنمائی فراہم کرنے اور انہیں محفوظ اور شفاف کاروباری ماحول مہیا کرنے کے لیے اپنی خدمات کو مزید وسعت دے گا تاکہ متحدہ عرب امارات عالمی سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہو سکے۔