حکومت کا بڑا فیصلہ: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
(پیپلز ٹی وی )حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں نافذ کر دی گئی ہیں۔
اعلان کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت بڑھ کر 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شازیہ مری کی ایرانی سفارتخانے آمد، ایرانی سفیر سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت
حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی سربراہی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔ کمیٹی عالمی مارکیٹ کی صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کر رہی ہے۔
عالمی صورتحال کا اثر
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس وقت خطے میں جنگی صورتحال اور عالمی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خودکار طریقہ کار کے تحت بڑھ جاتی ہیں جبکہ پاکستان میں حکومت عوام پر بوجھ کم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
"ہماری کوشش ہے کہ عالمی صورتحال کا اثر عوام پر کم سے کم پڑے اور ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جائے۔"
وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی
اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی قیمتوں کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے اور اس وقت قیمتوں میں کسی قسم کا ٹھہراؤ نظر نہیں آ رہا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے جاری ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مؤقف
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے بری خبر: آٹے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں معاشی استحکام برقرار رکھا جائے اور توانائی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر جلد ہی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ موجودہ صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی بریفنگ
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات غیر معمولی ہیں اور خطے میں جاری کشیدگی نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے چند ہفتوں کے دوران اپنے پٹرولیم ذخائر کو مناسب سطح تک بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ان کے مطابق پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ بھی رابطے کیے گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا جائزہ
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ یکم مارچ کو عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 78 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ گندم اسکینڈل 2026: محکمہ خوراک میں اربوں روپے کی خورد برد کا انکشاف
تاہم چند دنوں کے اندر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 6 مارچ تک پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی وجہ سے حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات
وزیر پٹرولیم کے مطابق پاکستان کے لیے پٹرولیم مصنوعات لے کر آنے والے دو جہاز یمبو پورٹ اور فجیرہ پورٹ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی کمپنی آرامکو نے بھی پاکستان کو ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ بحران کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی میں کوئی خلل نہ آئے۔
قیمتوں میں کمی کی امید
حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں صورتحال بہتر ہوگی اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دوبارہ نظرثانی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ موجودہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام آنے تک قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔