مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر

مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر

Global oil prices rise due to Middle East war and tension affecting energy markets

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے لیے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور توانائی کے ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ دو سال کے دوران سب سے زیادہ اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔

برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت تقریباً 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی توانائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی شعبے اور عالمی تجارت پر بھی پڑتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال

رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے میں ناکامی بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے سرمایہ کاروں اور توانائی کے ماہرین میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

قطری وزیر توانائی کا اہم بیان

اسی دوران قطر کے وزیر توانائی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کو اپنی پیداوار عارضی طور پر روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

"مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی توانائی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔"

قطری وزیر توانائی کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی تجارت اور معاشی استحکام پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ تیل عالمی معیشت کی بنیادی توانائی ہے جس پر زیادہ تر صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں انحصار کرتی ہیں۔

تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش، صنعتی مصنوعات اور دیگر خدمات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

اسی طرح ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، انہیں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی کی سپلائی بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے

قطری وزیر توانائی نے مزید کہا کہ اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو توانائی کی ترسیلات کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ہفتے یا حتیٰ کہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق عالمی توانائی نظام انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی بڑے جغرافیائی تنازعے کا اثر پوری دنیا کی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔

اسی وجہ سے عالمی توانائی کمپنیاں اور حکومتیں صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال

موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ سرمایہ کار اور توانائی کے ادارے مسلسل اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں کس سمت جائیں گی۔

اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے بین الاقوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی