شازیہ مری کی ایرانی سفارتخانے آمد، ایرانی سفیر سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا اہم سفارتی دورہ
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری سے ملاقات کی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات، سفارتی روابط اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شازیہ مری کے ایرانی سفارتخانے پہنچنے پر سفارتی عملے نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایرانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔
ایرانی عوام سے اظہارِ یکجہتی
یہ بھی پڑھیں
شازیہ مری نے اپنے دورے کے دوران ایرانی سفارتخانے میں موجود تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ انہوں نے لکھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے عوام اور حکومت ایرانی عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ایک ملک کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسرا ملک اس کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
خطے کے امن اور استحکام پر گفتگو
اس ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ شازیہ مری نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران دونوں ممالک خطے کے امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سرحدی روابط اور ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو اس کے مثبت نتائج حاصل ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے باہمی احترام، تعاون اور مسلسل رابطہ انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام مذہبی اور ثقافتی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، توانائی کے منصوبے اور سرحدی تعاون کے کئی مواقع موجود ہیں جنہیں مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ سے نہ صرف اقتصادی ترقی ممکن ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی شرکت
اس تعزیتی ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی شازیہ مری کے ہمراہ موجود تھے۔ ان میں ارکان قومی اسمبلی سحر کامران، سید حسین طارق شاہ، سید ابرار شاہ اور فتح اللہ خان شامل تھے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی ایرانی عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں دونوں ممالک کے درمیان یکجہتی قابل قدر ہے اور پاکستان کے عوام ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
سفارتی تعلقات کی اہمیت
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ روابط خطے کے امن اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان باہمی احترام اور بھائی چارہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ یہی جذبہ دونوں ممالک کو مستقبل میں مزید قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
شازیہ مری کا تعزیتی بیان
"سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے ایران سمیت دنیا بھر میں گہرے رنج و غم کی فضا پیدا کر دی ہے اور پاکستان کے عوام اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔"
شازیہ مری نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی قیادت اور کردار سے متاثر تھے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سانحے نے پوری مسلم دنیا کو دکھ اور صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
باہمی احترام اور دوستی کا اظہار
ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی، احترام اور تعاون کے جذبے کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے سفارتی دورے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور رابطے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
شازیہ مری کے ایرانی سفارتخانے کے دورے کو پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط کے تسلسل کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان تعاون، دوستی اور یکجہتی کے پیغام کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔