امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ
تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران شہید ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کے روز ہونے والی فضائی کارروائیوں کے دوران پیش آیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا۔ حکام نے ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
خاندانی افراد کی شہادت کی اطلاعات
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی بیٹی اور نواسے سمیت خاندان کے دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ ان کے داماد اور بہو بھی حملوں کا نشانہ بنے۔
اسرائیلی اور عالمی میڈیا کی رپورٹس
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے جہاں مبینہ طور پر متعدد بم گرائے گئے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد خامنہ ای کی لاش ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم ان خبروں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
اسرائیلی وزیراعظم کا بیان
“ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے، اور ایران کے عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔” — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ضرورت کے مطابق جاری رہیں گی اور مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حملوں میں جانی نقصان
یہ بھی پڑھیں
خبر ایجنسی رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی و بحری کارروائیوں میں کم از کم 201 ایرانی شہری جاں بحق جبکہ 747 زخمی ہوئے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی حملوں میں مارے گئے۔
Search Description (English): Iranian state media claims Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei was killed in US and Israeli attacks, prompting nationwide mourning and escalating Middle East tensions.