کراچی: سب رجسٹرار دفتر صدر ٹاؤن-1 بدعنوانی کا گڑھ بن گیا — ٹھیکہ سسٹم، ڈیجیٹل فراڈ اور ایجنٹ مافیا بے نقاب، شہریوں نے فوری فارنزک آڈٹ کا مطالبہ کر دیا
کراچی میں حسن اسکوائر کے قریب واقع سب رجسٹرار دفتر صدر ٹاؤن-1، جہاں منظم بدعنوانی کا ایک پورا نظام قائم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ (تصویر: نمائندہ / Peoples TV Pakistan)
کراچی (رپورٹ: ظہور احمد سروہی): محکمہ ریونیو سندھ کے ذیلی ادارے اسٹامپ و رجسٹریشن کا کراچی میں حسن اسکوائر کے قریب قائم سب رجسٹرار دفتر صدر ٹاؤن-1 بدعنوانی کے نئے اور جدید طریقوں کا گڑھ بن گیا ہے، جہاں روایتی رشوت ستانی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو بھی مبینہ طور پر لوٹ مار کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ Peoples TV Pakistan کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ دفتر اب ایک منظم مافیا کے کنٹرول میں ہے جس سے عام شہری روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔
📋 اہم انکشافات — ایک نظر میں
- دفتر میں باقاعدہ "ٹھیکہ سسٹم" نافذ، روزانہ کے ٹارگٹ مقرر
- سب رجسٹرار اسماعیل راہپوٹو پر تقریباً ۷۰ لاکھ روپے میں دفتر ٹھیکے پر لینے کا الزام
- جائیداد رجسٹری و انتقال کے لیے غیر اعلانیہ ریٹ لسٹ نافذ
- رشوت نہ دینے پر سسٹم جان بوجھ کر "ڈاؤن" رکھا جاتا ہے
- فائلوں کو "پینڈنگ" یا "آبجیکشن" میں ڈال کر شہریوں کو ذہنی دباؤ میں لایا جاتا ہے
- ایجنٹس کو اندرونی عملے کی مکمل سرپرستی حاصل ہے
- ریکارڈ میں دانستہ غلط اندراج، پھر "درستگی" کے نام پر مزید رقم وصولی
- اضافی رقم پر چند گھنٹوں میں رجسٹری، عام شہری ہفتوں تک پریشان
ٹھیکہ سسٹم اور روزانہ کے ٹارگٹ
تفصیلات کے مطابق سب رجسٹرار دفتر صدر ٹاؤن-1 میں ایک باقاعدہ "ٹھیکہ سسٹم" نافذ ہے، جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مخصوص ٹارگٹ مقرر کیے جاتے ہیں۔ جائیداد کی رجسٹری، انتقال اور دیگر معاملات کے لیے غیر اعلانیہ ریٹ لسٹ نافذ ہے، جبکہ سرکاری فیس صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ عام شہریوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اصل سرکاری فیس کیا ہے اور انہیں کتنی رقم ادا کرنی چاہیے — یہ معلومات صرف ایجنٹس کے ذریعے دی جاتی ہیں۔
ڈیجیٹل سسٹم — رشوت کا نیا ہتھیار
ذرائع کے مطابق عام شہریوں کے لیے سسٹم کو جان بوجھ کر "ڈاؤن" رکھا جاتا ہے، جبکہ رشوت دینے والوں کے کام فوری آن لائن مکمل کیے جاتے ہیں۔ یہ جدید طریقہ واردات خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ اس میں کوئی نقد لین دین ظاہر نہیں ہوتا — بظاہر سسٹم خرابی کا بہانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اصل میں ایک منصوبہ بند نظام کے تحت شہریوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔
فائلوں کو سسٹم میں "پینڈنگ" یا "آبجیکشن" میں ڈال کر شہریوں کو ذہنی دباؤ میں لایا جاتا ہے تاکہ وہ مجبور ہو کر ایجنٹس سے رجوع کریں۔ ایجنٹس پھر ان فائلوں کو "حل" کرانے کے بدلے بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور عملے کے ساتھ اسے تقسیم کرتے ہیں۔
ایجنٹ مافیا — اندرونی عملے کی سرپرستی میں
دفتر کے باہر موجود ایجنٹس کو اندرونی عملے کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جو ہر فائل پر اپنا کمیشن طے کرتے ہیں۔ یہ ایجنٹس دراصل عملے کے غیر رسمی نمائندے ہیں جو بیرونی شکل میں کام کرتے ہیں تاکہ رشوت کا سلسلہ دفتر کے اندر تک نہ پہنچے۔ ہر قسم کی رجسٹری، انتقال یا اندراج کے لیے الگ الگ غیر قانونی نرخ مقرر ہیں، جو صرف انہی ایجنٹس کے ذریعے بتائے جاتے ہیں۔
بعض کیسز میں ریکارڈ میں دانستہ تبدیلی یا غلط اندراج کر کے بعد میں "درستگی" کے نام پر مزید رقم وصول کی جاتی ہے۔ یعنی پہلے خود غلطی کرو، پھر اس غلطی کو ٹھیک کرنے کی فیس وصول کرو — یہ دوہری لوٹ مار کا نظام شہریوں کو ذہنی اور مالی دونوں طرح سے تباہ کر رہا ہے۔
رشوت سے انکار — بار بار مسترد، مسلسل چکر
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شہری رشوت دینے سے انکار کرے تو اس کی فائل بار بار مسترد کر دی جاتی ہے یا نئے اعتراضات لگا کر اسے مسلسل چکر لگوائے جاتے ہیں۔ اضافی رقم کے عوض چند گھنٹوں میں رجسٹری مکمل کر دی جاتی ہے، جبکہ عام شہری بغیر رشوت کے ہفتوں تک انتظار پر مجبور رہتے ہیں۔ یہ دو رویوں والا نظام شہریوں کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ لمبے انتظار کی بجائے رشوت دے کر اپنا کام کرا لیں۔
قانونی ماہرین کا تشویشناک انتباہ
قانونی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے کیونکہ جائیداد کے ریکارڈ میں معمولی رد و بدل بھی مستقبل میں بڑے فراڈ، قبضہ مافیا کی سرگرمیوں اور عدالتی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ جب سرکاری ریکارڈ میں دانستہ غلطیاں ڈالی جاتی ہیں تو اس سے صرف فرد نہیں بلکہ پوری فیملی کا جائیداد کا حق متاثر ہو سکتا ہے، اور یہ مسائل عدالتوں میں دہائیوں تک چلتے رہتے ہیں۔
شہریوں کے مطالبات
متاثرہ شہریوں اور سول سوسائٹی نمائندوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض انتظامی تبادلوں سے کچھ نہیں بدلتا — مسئلہ نظام کی جڑ میں ہے اور اس کے لیے ٹھوس، فوری اور سختی پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔
🔔 اہم مطالبات
- صدر-1 سب رجسٹرار دفتر کا فوری فارنزک آڈٹ کرایا جائے
- ڈیجیٹل سسٹم کو مکمل طور پر شفاف اور خودکار بنایا جائے
- ایجنٹ مافیا کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور دفتر کے باہر ایجنٹس کا کاروبار بند کرایا جائے
- ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
- شہریوں کے لیے سرکاری فیس کی مکمل فہرست عوامی طور پر آویزاں کی جائے
- شکایات کے لیے آزادانہ اور محفوظ ہیلپ لائن قائم کی جائے
نتیجہ: نظام بدلنا ضروری ہے
سب رجسٹرار دفتر صدر ٹاؤن-1 میں منظم بدعنوانی کا یہ نظام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی، ہمہ جہت اور تکنیکی طور پر جدید بنائی گئی لوٹ مار کی مشینری ہے۔ جب تک اعلیٰ سطح پر احتساب نہیں ہوگا، جب تک ڈیجیٹل نظام کو واقعی شفاف نہیں بنایا جائے گا اور جب تک ایجنٹ مافیا کی سرپرستی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا — عام شہری ان دفاتر کے باہر ذلت اٹھاتا رہے گا۔
Peoples TV Pakistan اس معاملے کو مسلسل فالو کرے گا اور متاثرہ شہریوں کی آوازوں کو اعلیٰ حکام تک پہنچاتا رہے گا۔