کراچی (نیوز ڈیسک): پاکستان کے نامور ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہونے والے ملک ریاض حسین کے خلاف احتساب کا عمل ایک اہم موڑ پر آ گیا ہے۔ معزز احتساب عدالت نمبر III، سندھ کراچی نے 30 اپریل 2026 کو ریفرنس نمبر 01/2025 (ریاست بمقابلہ ملک ریاض حسین اور دیگر) میں مرکزی ملزم ملک ریاض حسین سمیت 9 دیگر ملزمان کے دائمی / تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ یہ قانونی اقدام اس لیے مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ تمام ملزمان کو عدالت پہلے ہی 23 اپریل 2026 کے اپنے حکم نامے کے ذریعے اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے — یعنی یہ افراد نہ صرف قانون کی گرفت سے فرار ہیں بلکہ اب ان کی گرفتاری کے تاحیات احکامات بھی صادر ہو چکے ہیں۔

📋 01/2025 ریفرنس نمبر — ریاست بمقابلہ ملک ریاض
👥 10 کل ملزمان — وارنٹ جاری
📅 23 اپریل اشتہاری مجرم قرار دینے کا حکم نامہ
⚖️ عدالت III احتساب عدالت نمبر III، سندھ کراچی
🔴 اہم قانونی نکتہ: دائمی / تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ایک انتہائی سنگین عدالتی اقدام ہے جس کے تحت ملزمان کو کسی بھی وقت، کہیں سے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا اختیار بھی محدود ہو جاتا ہے۔ یہ وارنٹ اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب ملزمان عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہ ہوں۔

ریفرنس نمبر 01/2025 — مقدمے کا پس منظر

احتساب عدالت نمبر III، سندھ کراچی میں زیر سماعت ریفرنس نمبر 01/2025 ایک ایسا مقدمہ ہے جو پاکستان کی مالیاتی اور کاروباری تاریخ کے اہم ترین احتسابی مقدمات میں شمار کیا جائے گا۔ اس ریفرنس میں ملک ریاض حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر سرکاری اداروں کے ساتھ ہونے والے معاملات میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے پہلے مرحلے میں تمام ملزمان کو طلب کیا، لیکن ان کی مسلسل غیر حاضری پر 23 اپریل 2026 کو انہیں اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ اشتہاری قرار دیے جانے کے محض ایک ہفتے بعد، 30 اپریل کو عدالت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دائمی / تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے — جو ظاہر کرتا ہے کہ عدالت اس مقدمے میں کسی مزید تاخیر کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق جب کسی ملزم کو اشتہاری مجرم قرار دیا جائے اور اس کے بعد دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری ہو جائیں تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح ہدایت ہوتی ہے کہ وہ ان افراد کی بازیابی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں۔ اگر ملزمان ملک سے باہر ہیں تو ان کی حوالگی کا عمل بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔

وارنٹ جاری ہونے والے ملزمان کی مکمل فہرست

معزز احتساب عدالت نمبر III نے مرکزی ملزم ملک ریاض حسین کے ساتھ ساتھ درج ذیل 9 افراد کے بھی دائمی / تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ان میں ملک ریاض کے صاحبزادے، قریبی ساتھی اور دیگر کاروباری شراکت دار شامل ہیں:

# ملزم کا نام والد کا نام
1 ملک ریاض حسین ★ مرکزی ملزم
2 محمد اویس ولد عبدالرحیم
3 زین ملک ولد ارشد ملک
4 شاہد محمود قریشی ولد محمد سرور
5 وسیم رفعت ولد ملک رفعت
6 احمد بخش ناریجو ولد محمد ابراہیم
7 احمد علی ریاض ولد ملک ریاض
8 فیصل سرور قریشی ولد محمد سرور
9 ثاقب احمد سومرو ولد اختر محمد سومرو
10 وقاص رفعت ولد ملک رفعت

اشتہاری مجرم سے تاحیات وارنٹ — قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستانی قانون کے تحت جب کوئی ملزم بار بار عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہ ہو تو عدالت پہلے مرحلے میں اسے اشتہاری مجرم قرار دیتی ہے۔ اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ملزم کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور اس کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنا عدالت کا ایک مزید سخت قدم ہوتا ہے جو واضح کرتا ہے کہ ملزم قانون کی نظر میں فرار اور مفرور ہے اور اسے لازماً حاضر کرنا ہوگا۔

ناقابل ضمانت وارنٹ کے قانونی نتائج

  • پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کو کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت گرفتار کر سکتے ہیں
  • ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا اختیار عام حالات میں نہیں ہوگا — صرف اعلیٰ عدالت جا سکتی ہے
  • اگر ملزم بیرون ملک ہے تو انٹرپول نوٹس اور حوالگی کی درخواست کا راستہ کھلتا ہے
  • ملزم کی ملکی اور غیر ملکی جائیداد منجمد کرنے کے اقدامات تیز ہو سکتے ہیں
  • مقدمے میں ملزم کی غیر حاضری میں بھی سماعت اور فیصلہ ممکن ہو جاتا ہے

احمد علی ریاض — ملک ریاض کے صاحبزادے بھی فہرست میں شامل

اس مقدمے میں ایک انتہائی قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ وارنٹ جاری ہونے والے ملزمان کی فہرست میں احمد علی ریاض (ولد ملک ریاض) کا نام بھی شامل ہے — یعنی ملک ریاض حسین کے صاحبزادے بھی اس ریفرنس میں ملزم کی حیثیت سے درج ہیں اور ان کے خلاف بھی تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کی نظر میں یہ معاملہ انفرادی نہیں بلکہ خاندانی اور ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔ اسی طرح وسیم رفعت اور وقاص رفعت دونوں ملک رفعت کے فرزند ہیں، جو یہ بتاتا ہے کہ متعدد خاندانوں کے افراد اس ریفرنس میں ملوث ہیں۔

دائمی / تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا اجراء اس بات کی واضح علامت ہے کہ عدالت نے اس مقدمے میں ملزمان کی مسلسل غیر حاضری کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور قانون کا عمل رکنے نہیں دیا جائے گا۔

— قانونی تجزیہ Peoples TV Pakistan

عوامی ردعمل اور قانونی حلقوں کی رائے

پاکستان میں احتساب کا یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ جب اس سطح کے کاروباری شخصیات کے خلاف دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون سے کوئی بھی ماورا نہیں — لیکن اصل آزمائش ان وارنٹوں پر عملدرآمد کی ہوگی۔
— قانونی ماہر، کراچی

آگے کیا ہوگا — مقدمے کا ممکنہ رخ

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ تمام ملزمان اشتہاری بھی قرار پا چکے ہیں اور تاحیات ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں، نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی بازیابی کے لیے آگے بڑھنے کے پابند ہیں۔ اگر ملزمان پاکستان سے باہر موجود ہیں تو انٹرپول ریڈ نوٹس کے اجراء اور متعلقہ ممالک کے ساتھ حوالگی کے معاہدوں کے تحت ان کی واپسی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، عدالت ملزمان کی غیر حاضری میں بھی مقدمے کی سماعت جاری رکھ سکتی ہے اور ان کی جائیدادوں کے حوالے سے مزید اقدامات کر سکتی ہے۔

یہ مقدمہ صرف ایک فرد یا ایک کمپنی کا نہیں بلکہ پاکستان میں بڑے کاروباری اداروں کے احتساب کی ایک اہم مثال بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس مقدمے کی پیش رفت ملک کی احتسابی عمل کی سمت کا تعین کرے گی۔