سندھ فوڈ اتھارٹی میں کرپشن کا عروج، ضلع شرقی کے 2 افسران پر لاٸسنس کی مد میں ریسٹورنٹ مالک سے 2 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام

سندھ فوڈ اتھارٹی کرپشن رپورٹ

سندھ فوڈ اتھارٹی میں کرپشن کا عروج، ضلع شرقی کے 2 افسران پر لاٸسنس کی مد میں ریسٹورنٹ مالک سے 2 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام

Peoples TV Pakistan | Special Investigative Report

Sindh Food Authority Corruption: 2 East District Officers Accused of Rs 2 Lakh Bribe

سندھ فوڈ اتھارٹی میں کرپشن کا عروج، ضلع شرقی کے 2 افسران پر لاٸسنس کی مد میں ریسٹورنٹ مالک سے 2 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام

کراچی (خصوصی رپورٹ: ظہور احمد سروہی) — پیپلز ٹی وی پاکستان

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں عوام کو معیاری اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ ادارہ 'سندھ فوڈ اتھارٹی' (SFA) ان دنوں خود بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی کے سنگین دلدل میں دھنس چکا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء کا معیار برقرار رکھنے اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے بنائے گئے اس ادارے کے فیلڈ افسران پر اب کاروباری برادری کو ہراساں کرنے اور منظم رشوت ستانی کے ہولناک الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

تازہ ترین سنسنی خیز معاملے میں سندھ فوڈ اتھارٹی ضلع شرقی (East District) کے دو فیلڈ افسران پر گرو مندر کے قریب واقع مشہور فوڈ پوائنٹ 'یامین کباب' کے مالک کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے، سرکاری لائسنس کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنے اور لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے کے بعد بھی چالان درج کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس واقعہ نے سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی اور شفافیت پر ایک بار پھر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔

گرو مندر یامین کباب اسکینڈل کی مکمل تفصیلات

متاثرہ ریسٹورنٹ مالک کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق، سندھ فوڈ اتھارٹی ضلع شرقی کے فوڈ سیفٹی آفیسر (FSO) تحسین اور اسسٹنٹ سفیر عباس نے کچھ عرصے قبل گرو مندر کے قریب واقع ان کے ہوٹل کا معائنہ کیا۔ اس معائنے کا مقصد فوڈ سیفٹی کے معیار کی جانچ اور ریسٹورنٹ کے باضابطہ لائسنس کا اجراء تھا۔ تاہم، الزام کے مطابق مذکورہ افسران نے لائسنس کے قانونی عمل کو آسان بنانے کے بجائے ریسٹورنٹ انتظامیہ کو سنگین نتائج، ہوٹل سیل کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

ریسٹورنٹ مالک کے مطابق، FSO تحسین اور اسسٹنٹ سفیر عباس نے ابتدا میں لائسنس کے اجراء اور کارروائی نہ کرنے کے عوض بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 5 لاکھ روپے کی خطیر رقم کا مطالبہ کیا۔ ریسٹورنٹ کے مالک نے جب اتنی بڑی رقم دینے میں معذوری ظاہر کی تو افسران کی جانب سے مسلسل دباؤ بڑھایا گیا۔ بالآخر، تکرار اور معاملات طے پانے کے بعد ریسٹورنٹ مالک کو 2 لاکھ روپے نقد رقم دینے پر مجبور کیا گیا۔

"افسران نے نہ صرف 2 لاکھ روپے نقد رشوت وصول کی بلکہ ہوٹل میں مفت کھانا بھی تناول کیا۔ لیکن اس کے باوجود اخلاقیات اور وعدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمارے خلاف 20 ہزار روپے کا سرکاری چالان کاٹ دیا گیا اور لائسنس تاحال جاری نہیں کیا گیا!" — متاثرہ ریسٹورنٹ مالک

رشوت اور مفت کھانا کھانے کے بعد بھی 20 ہزار کا چالان

متاثرہ تاجر نے اپنے بیان میں انتہائی تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ فیلڈ افسران نے 2 لاکھ روپے وصول کرنے اور ہوٹل سے شاہانہ کھانا مفت تناول کرنے کے بعد بھی اپنی من مانی جاری رکھی۔ انہوں نے ریسٹورنٹ پر 20 ہزار روپے کا سرکاری چالان کاٹ دیا اور یہ دلاسا دیا کہ یہ چالان صرف رول پورا کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے، جبکہ لائسنس جلد جاری کر دیا جائے گا۔

تاہم چالان کی رقم ادا کرنے اور 2 لاکھ روپے نقد دینے کے باوجود مہینوں گزر جانے پر بھی 'یامین کباب' کو سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ ریسٹورنٹ مالک کا کہنا ہے کہ وہ لائسنس کے حصول کے لیے مسلسل دفاتر کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں، لیکن ہر بار انہیں مزید پیسوں کے مطالبے اور تاخیری حربوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے بلکہ ان میں شدید نفسیاتی اور مالی بے چینی پھیلا دی ہے۔

افسران کا سنسنی خیز دعویٰ: 'ڈپٹی ڈائریکٹر کو ماہانہ ایک کروڑ روپے کا ٹارگٹ دینا ہوتا ہے'

اس معاملے کا سب سے خوفناک اور چشم کشا پہلو وہ انکشاف ہے جو فیلڈ افسران نے رشوت کا مطالبہ کرتے وقت ریسٹورنٹ مالک کے سامنے کیا۔ متاثرہ تاجر کے مطابق جب انہوں نے افسران سے اتنی بڑی رقم مانگنے کا سبب پوچھا تو FSO تحسین اور اسسٹنٹ سفیر عباس نے مبینہ طور پر واضح لفظوں میں کہا کہ ان پر اوپر سے شدید دباؤ ہے۔

فیلڈ افسران کے بقول، سندھ فوڈ اتھارٹی ضلع شرقی کے ڈپٹی ڈائریکٹر در محمد مہر کی جانب سے انہیں ماہانہ بنیادوں پر ایک کروڑ روپے (10 Million PKR) کا ہدف (Target) دیا گیا ہے، جو انہیں ہر صورت اپنے علاقے کے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، اور فوڈ پروسیسنگ یونٹس سے اکٹھا کر کے اوپر پہنچانا ہوتا ہے۔ افسران نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ یہ ٹارگٹ پورا نہ کریں تو ان کی اپنی ملازمت اور پوسٹنگ خطرے میں پڑ جاتی ہے، لہٰذا وہ تاجروں اور ہوٹل مالکان سے رقم وصول کرنے پر مجبور ہیں۔

سندھ فوڈ اتھارٹی میں منظم بھتہ خوری کا نیٹ ورک؟

اگر فیلڈ افسران کے اس دعوے کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے اندر صرف انفرادی کرپشن نہیں ہو رہی، بلکہ ایک مکمل منظم اور نیٹ ورک کی صورت میں بھتہ خوری اور رشوت ستانی کا نظام چلایا جا رہا ہے۔ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں فیلڈ افسران کو ماہانہ کروڑوں روپے کے غیر قانونی جمع آوری کا ہدف ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس کالے دھندے میں برابر کے شریک ہیں یا پھر ان کی سرپرستی حاصل ہے۔

کراچی کی تاجر برادری اور آل کراچی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید تشویش اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کا مقصد کھانے کے معیار کو بہتر بنانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ ادارہ اب چھوٹے اور بڑے تاجروں کے لیے 'منظم بھتہ خوری کا مرکز' بن چکا ہے۔ لائسنسنگ کے نام پر تاجروں سے لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں اور جو رقم دینے سے انکار کرے، اس کا کاروبار سیل کر دیا جاتا ہے یا اس پر من گھڑت الزامات کے تحت بھاری جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں۔

شفاف تحقیقات اور اعلٰی حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

گرو مندر کے قریب یامین کباب کے مالک اور کراچی کی شہری و تاجر برادری نے حکومت سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر صحت، اور نیب (NAB) سمیت اینٹی کرپشن ایسٹبلشمنٹ سندھ کے اعلیٰ حکام سے اس معاملے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عوام اور متاثرہ تاجر برادری نے مندرجہ ذیل اہم مطالبات رکھے ہیں:

  • غیر جانبدارانہ تحقیقات: فیلڈ افسران FSO تحسین، اسسٹنٹ سفیر عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر ضلع شرقی در محمد مہر کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کی جائے۔
  • معطلی اور قانونی کارروائی: تحقیقات مکمل ہونے تک تمام نامزد افسران کو فوری طور پر عہدوں سے معطل کیا جائے تاکہ وہ ثبوتوں میں ردوبدل نہ کر سکیں۔
  • لائسنس کا اجراء: قانونی تقاضے پورے کرنے والے تمام متاثرہ تاجروں اور ریسٹورنٹ مالکان کو بلا تاخیر اور بلا رشوت لائسنس فراہم کیے جائیں۔
  • مالی ریلیف اور رقم کی واپسی: ریسٹورنٹ مالک سے زبردستی اور بلیک میلنگ کے ذریعے وصول کی گئی 2 لاکھ روپے کی رقم واپس کروائی جائے اور بلاجواز کاٹا گیا 20 ہزار کا چالان منسوخ کیا جائے۔

پیپلز ٹی وی پاکستان (peoplestvpk.com) صحافتی اصولوں کے مطابق اس پورے معاملے پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی اعلیٰ انتظامیہ اور متعلقہ افسران کا موقف شامل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ادارے کا موقف سامنے آنے پر اسے بھی من وعن شائع کیا جائے گا۔ تاہم، اس قسم کے اسکینڈلز کا سامنے آنا سندھ فوڈ اتھارٹی کی کریڈیبلٹی پر ایک بڑا دھبہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے ہنگامی اور سخت ترین فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی