دبئی، متحدہ عرب امارات — 26 اگست 2026:
دبئی میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران افغانستان پریمیئر لیگ ٹی 20 کی چیمپئن شپ ٹرافی ’’کوہِ ظفر‘‘ کی رونمائی۔
دبئی، متحدہ عرب امارات (پیپلز ٹی وی) — افغانستان پریمیئر لیگ ٹی 20 نے اپنے پہلے تاریخی سیزن کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین افتتاحی فرنچائز ٹیموں، ان کی ٹیم شناخت اور چیمپئن شپ ٹرافی ’’کوہِ ظفر‘‘ کی باقاعدہ رونمائی کردی ہے۔ اس حوالے سے دبئی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں افغانستان پریمیئر لیگ کی فرنچائزز کے مالکان، لیگ کے شراکت داروں، گورننگ کمیٹی کے ارکان اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران تینوں افتتاحی فرنچائز ٹیموں کے نام، لوگوز اور ٹیم برانڈنگ متعارف کرائی گئی، جبکہ لیگ کی فاتح ٹیم کو دی جانے والی خصوصی چیمپئن شپ ٹرافی ’’کوہِ ظفر‘‘ بھی پیش کی گئی۔ لیگ انتظامیہ کے مطابق اے پی ایل ٹی 20 کا آغاز افغانستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ نئی ٹی 20 لیگ کا مقصد افغانستان میں کرکٹ کے فروغ، مقامی ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنے اور ملک کے کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
افتتاحی سیزن 27 دسمبر 2026 سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پلیئر رجسٹریشن پورٹل 30 اگست کو کھلے گا جبکہ افتتاحی پلیئر ڈرافٹ 27 ستمبر 2026 کو ہوگا۔ بقیہ دو فرنچائزز کے حتمی انتخاب کے بعد مکمل ٹورنامنٹ شیڈول اور میزبان مقامات کا اعلان کیا جائے گا۔ اگرچہ بورڈ نے ابھی مقامات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم افتتاحی سیزن متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے کے قوی امکانات ہیں۔
تین افتتاحی فرنچائزز: کابل، بلخ اور قندھار
افغانستان کرکٹ بورڈ نے دبئی کی تقریب میں تین بانی فرنچائزز کے معاہدے اور شناخت کا اعلان کیا۔ یہ ٹیمیں ہیں: ایکسل یونائیٹڈ کابل، بلخ زوانان اور قندھار واریئرز۔ بورڈ کے مطابق یہ فرنچائزز افغانستان کے مختلف خطوں کی کرکٹ محبت، نوجوان ٹیلنٹ اور شائقین کے جذبے کی نمائندگی کریں گی۔ اصل منصوبے میں پانچ شہری فرنچائزز کا ذکر تھا، جن میں پکتیا اور ننگرہار کی نمائندگی بھی شامل تھی۔ ذرائع کے مطابق بقیہ دو ٹیموں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور ان کے اعلان کے بعد لیگ کی مکمل تصویر سامنے آئے گی۔
ایکسل یونائیٹڈ کابل دارالحکومت کی نمائندگی کرے گی۔ کابل وہ شہر ہے جس نے افغانستان کو متعدد عالمی ستارے دیے ہیں، جن میں سابق کپتان اصغر افغان اور تیز گیند باز نوین الحق شامل ہیں۔ فرنچائز کے مالک نے تقریب کے بیان میں کہا کہ ان کا کام ایسی شناخت بنانا ہے جسے شہر اور اس کے کھلاڑی اپنا سمجھیں۔ پیشہ ورانہ انتظام، پہلے دن سے مقابلہ جاتی معیار، اور مستقل وجود — یہ تین نکات کابل فرنچائز کی بنیاد قرار دیے گئے۔
یہ وہ شہر ہے جس نے دنیا کو افغانستان کے کچھ بہترین کرکٹرز دیے ہیں۔ ہمارا کام ایسی فرنچائز بنانا ہے جسے یہ کھلاڑی اور یہ شہر اپنا سمجھیں — پیشہ ورانہ طور پر چلنے والی، پہلے دن سے مقابلہ جاتی، اور مستقل۔
— مالک، ایکسل یونائیٹڈ کابل
بلخ زوانان شمالی افغانستان کی آواز بنے گی۔ ’’زوانان‘‘ پشتو میں نوجوان نسل کے معنی رکھتا ہے۔ فرنچائز مالکان نے واضح کیا کہ یہ نام محض بیج پر سجاوٹ نہیں بلکہ ان کا عملی مینڈیٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلخ اور شمال میں ایسا ٹیلنٹ موجود ہے جسے کبھی پیشہ ورانہ راستہ نہیں ملا۔ فرنچائز کا ارادہ ہے کہ اس ٹیلنٹ کو تلاش کیا جائے، سائن کیا جائے، اور ایسے اسٹیج پر پیش کیا جائے جہاں پورا ملک اور وسیع کرکٹ دنیا اسے دیکھ سکے۔ 2018 کے اصل اے پی ایل میں بلخ لیجنڈز نے محمد نبی کی کپتانی میں ٹائٹل جیتا تھا، اس لیے شمالی شناخت کا یہ نیا باب شائقین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
زوانان کا مطلب نوجوان نسل ہے، اور یہ بیج پر محض سجاوٹ نہیں — یہ ہمارا مینڈیٹ ہے۔ بلخ اور شمال میں ایسا ٹیلنٹ ہے جسے کبھی پیشہ ورانہ راستہ نہیں ملا۔ ہم اسے تلاش کریں گے، سائن کریں گے، اور ایسے اسٹیج پر لائیں گے جہاں پورا ملک اور وسیع کرکٹ دنیا اسے دیکھ سکے۔
— مالکان، بلخ زوانان
قندھار واریئرز جنوبی افغانستان کی جارحانہ کرکٹ ثقافت کو فرنچائز کی روح بنانے جا رہے ہیں۔ مالکان نے کہا کہ قندھار کے شائقین میچ ’’نرمی سے دیکھنے‘‘ نہیں آتے۔ وہ بلند آواز میں آتے ہیں اور ایسی ٹیم کی توقع رکھتے ہیں جو اسی انداز میں کھیلے — جارحانہ، بے باک کرکٹ جو جنوب کے کردار کی عکاسی کرے۔ قندھار کی کرکٹ تاریخ میں قندھار نائٹس کی 2018 والی شناخت بھی شامل رہی ہے، تاہم نئی فرنچائز نے ’’واریئرز‘‘ کے نام سے زیادہ جنگجو اور ہجوم دوست برانڈ منتخب کیا ہے۔
قندھار کے شائقین شائستگی سے دیکھنے نہیں آتے۔ وہ بلند آواز میں آتے ہیں اور ایسی ٹیم چاہتے ہیں جو ویسے ہی کھیلے — جارحانہ، بے باک کرکٹ جو جنوب کے کردار کی عکاسی کرے۔
— مالکان، قندھار واریئرز
لوگوز اور ٹیم شناخت: خطے کی کہانی، میدان کی زبان
تقریب کا ایک مرکزی حصہ تینوں ٹیموں کے لوگوز اور برانڈنگ کی باقاعدہ رونمائی تھا۔ لیگ انتظامیہ کے مطابق ہر فرنچائز کی بصری شناخت اس کے شہر، تاریخ اور کرکٹ مزاج سے جوڑی گئی ہے۔ کابل کی شناخت دارالحکومت کی وقار، پہاڑی افق اور پیشہ ورانہ معیار سے منسلک ہے؛ بلخ کی شناخت نوجوان نسل، شمالی میدانوں اور قدیم تہذیبی ورثے سے؛ جبکہ قندھار کی شناخت قلعہ، ریگستان اور جنگجو جذبے سے۔ یہ لوگوز محض کپڑوں پر چھپنے والے نشان نہیں بلکہ شائقین کے لیے جذباتی تعلق کا ذریعہ بنیں گے — بالکل اسی طرح جیسے دنیا بھر کی بڑی ٹی 20 لیگز میں فرنچائز رنگ، نشان اور نعرہ مقامی فخر کا حصہ بن جاتے ہیں۔
برانڈنگ کے ماہرین کے نزدیک کسی نئی لیگ کی کامیابی صرف کھلاڑیوں کے ناموں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ شائقین اپنی ٹیم کو ’’اپنی‘‘ سمجھیں یا نہیں۔ کابل، بلخ اور قندھار تین ایسے کرکٹ بازار ہیں جہاں گھریلو لیگ شپیګیزہ پہلے سے جذبات رکھتی ہے، تاہم اے پی ایل ٹی 20 فرنچائز ماڈل ان جذبات کو تجارتی، نشریاتی اور بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش ہے۔ لوگوز کی رونمائی کے بعد سوشل میڈیا پر افغان اور پاکستانی شائقین نے تینوں شناختوں پر تبصرے شروع کر دیے ہیں، جو لیگ کے لیے ابتدائی عوامی دلچسپی کی علامت ہے۔
کوہِ ظفر: فتح کا پہاڑ، جو ایک سیزن میں نہیں چڑھا جاتا
کوہِ ظفر ٹرافی کا ڈیزائن افغانستان کے پہاڑی سلسلوں کی مضبوطی، مزاحمت اور کامیابی کی بلندی سے متاثر ہے۔
تقریب کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا لمحہ چیمپئن شپ ٹرافی ’’کوہِ ظفر‘‘ کی رونمائی تھا۔ کوہِ ظفر کے معنی ہیں ’’فتح کا پہاڑ‘‘۔ ٹرافی کا ڈیزائن افغانستان کے مشہور پہاڑی سلسلوں سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے اور اسے طاقت، مزاحمت اور افغان کرکٹ میں اعلیٰ ترین کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیگ انتظامیہ کے مطابق یہ ٹرافی فاتح ٹیم کے لیے محض دھاتی انعام نہیں بلکہ قومی شناخت اور کھیلوں میں استقامت کی کہانی ہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین میرویس اشرف نے ٹرافی کے نام کو شعوری انتخاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح کا پہاڑ ایک سیزن میں نہیں چڑھا جاتا، بلکہ برسوں میں ان کھلاڑیوں کے ہاتھوں بنتا ہے جو ہمارے بعد آتے ہیں۔ یہ جملہ لیگ کے طویل المدتی وژن کی طرف اشارہ کرتا ہے: اے پی ایل ٹی 20 کو ایک سالہ شو نہیں بلکہ نسل در نسل چلنے والے ڈھانچے کے طور پر کھڑا کرنا۔ 2018 میں صرف ایک سیزن کے بعد لیگ رک گئی تھی؛ اس بار بورڈ اور شراکت دار اس شناخت کو مستقل بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
آج افغان کرکٹ کے لیے سنگِ میل کا دن ہے۔ ہماری افتتاحی فرنچائزز اور کوہِ ظفر ٹرافی کی رونمائی اس مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم ایسی لیگ بنائیں جو آنے والی نسلوں کو متاثر کرے۔ اس ٹرافی کا نام کوہِ ظفر رکھنا سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ فتح کا پہاڑ ایک سیزن میں نہیں چڑھا جاتا — یہ برسوں میں بنتا ہے، ان کھلاڑیوں کے ہاتھوں جو ہمارے بعد آتے ہیں۔ آج ہم وہ فرنچائزز پیش کر رہے ہیں جو یہ ذمہ داری اٹھائیں گی، اور ایسا مقابلہ جاتی ڈھانچہ جو ہر نوجوان کرکٹر کو ضلعی گراؤنڈ سے بین الاقوامی سطح تک نظر آنے والا راستہ دے۔
— میرویس اشرف، چیئرمین افغانستان کرکٹ بورڈ
2018 کا سبق: ایک سیزن، بڑے نام، پھر خاموشی
افغانستان پریمیئر لیگ پہلی بار 2018 میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی۔ اس سیزن میں پانچ ٹیمیں شامل تھیں: کابل زوانان، بلخ لیجنڈز، قندھار نائٹس، ننگرہار لیپرڈز اور پکتیا پینتھرز۔ بلخ لیجنڈز نے محمد نبی کی قیادت میں فائنل میں کابل زوانان کو چار وکٹوں سے شکست دے کر افتتاحی چیمپئن کا تاج پہنا۔ راشد خان کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اس ایڈیشن میں کرس گیل، برینڈن میک کولم، شاہد آفریدی، آندرے رسل اور محمد حفیظ جیسے بین الاقوامی ستارے بھی نظر آئے۔
تاہم لیگ صرف ایک سیزن کے بعد بند ہو گئی۔ ادائیگیوں کے تنازعات اور لیگ کی سالمیت سے متعلق خدشات سامنے آئے، جس کے بعد یہ منصوبہ آٹھ سال تک التوا کا شکار رہا۔ اس دوران افغانستان کی قومی ٹیم نے بین الاقوامی کرکٹ میں غیر معمولی سفر طے کیا: ٹیسٹ سٹیٹس، ٹی 20 ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی، اور راشد خان، محمد نبی، مجیب الرحمن، ابراہیم زدران، رحمن اللہ گرباز اور Persie جیسے ناموں نے افغان کرکٹ کو عالمی برانڈ بنا دیا۔ اب بورڈ اسی عالمی توجہ کو گھریلو فرنچائز لیگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ افغانستان کی گھریلو ٹی 20 لیگ شپیګیزہ کرکٹ لیگ جولائی اگست کے سیزن میں باقاعدگی سے کھیلی جاتی ہے اور پانچ مقامی ٹیموں پر مشتمل ہے۔ اے پی ایل ٹی 20 اس گھریلو ڈھانچے کی جگہ نہیں لے گی بلکہ اس کے اوپر ایک فرنچائز پرت بنائے گی، جہاں مقامی ہیروز کے ساتھ بیرونِ ملک پیشہ ور کھلاڑی بھی شامل ہو سکیں گے۔ چیئرمین میرویس اشرف نے اشارہ دیا ہے کہ لیگ کی دوسری ایڈیشن میں افغان اور بین الاقوامی دونوں کھلاڑی نظر آئیں گے۔
پلیئر ڈرافٹ، شیڈول اور بقیہ فرنچائزز
لیگ کا اگلا عملی قدم کھلاڑیوں کی رجسٹریشن ہے۔ اے پی ایل ٹی 20 کا پلیئر رجسٹریشن پورٹل 30 اگست کو سرکاری ویب سائٹ پر کھلے گا، جبکہ افتتاحی پلیئر ڈرافٹ 27 ستمبر 2026 کو ہوگا۔ یہ ٹائم لائن دسمبر کے آغاز سے پہلے فرنچائزز کو سکواڈ بنانے، کوچنگ اسٹاف منتخب کرنے اور مارکیٹنگ مہم شروع کرنے کا موقع دے گی۔ بورڈ نے کہا ہے کہ مکمل شیڈول اور مقامات اس وقت تک محفوظ رکھے جائیں گے جب تک بقیہ دو فرنچائزز کا انتخاب مکمل نہ ہو جائے۔
اصل اعلان میں پانچ شہری فرنچائزز کا ذکر تھا: کابل، قندھار، ننگرہار، بلخ اور پکتیا۔ دبئی کی تقریب میں تین فرنچائزز سامنے آ گئیں، دو ابھی باقی ہیں۔ کرکٹ حلقوں میں قیاس ہے کہ ننگرہار اور پکتیا — یا متبادل طور پر کندوز جیسا شمالی بازار — اگلے اعلانات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ جب تک پانچوں شناختیں مکمل نہ ہوں، ڈرافٹ کی ساخت، پلے آف فارمیٹ اور میچوں کی کل تعداد حتمی نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم لیگ کی سرکاری معلومات کے مطابق طویل المدتی منصوبہ راؤنڈ رابن، کوالیفائر، ایلیمنیٹر اور گرانڈ فائنل پر مشتمل ٹی 20 ڈھانچے کا ہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نصیب خان نے لیگ کی بحالی کو محض کھیلوں کا ایونٹ نہیں بلکہ تکنیکی اور اقتصادی مواقع پیدا کرنے والا منصوبہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اے پی ایل ٹی 20 وسیع کرکٹ ماحولیاتی نظام — کوچنگ، گراؤنڈ آپریشنز، میڈیا، اسپانسرشپ اور نوجوان کھلاڑیوں کی پائپ لائن — کو تقویت دے گی۔ بورڈ 2017 سے آئی سی سی کا فل ممبر ہے اور کابل میں ہائی پرفارمنس سینٹر کے ذریعے قومی ڈھانچہ مضبوط کر رہا ہے۔ فرنچائز لیگ اسی ڈھانچے کو تجارتی ایندھن دینے کی کوشش ہے۔
افغان کرکٹ کے نئے دور کیوں اہم ہے؟
گزشتہ دہائی میں افغانستان نے ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود عالمی کرکٹ میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ راشد خان کو آئی سی سی ٹی 20 آئی پلیئر آف دی ڈیکیڈ قرار دیا جا چکا ہے، ہشمت اللہ شاہدی ٹیسٹ ڈبل سنچریاں بنا چکے ہیں، مجیب الرحمن کی اسرار بھری اسپن دنیا بھر کی فرنچائزز خریدتی ہے، اور نوین الحق جیسے تیز گیند باز بیرونِ ملک لیگز کے مستقل چہرے بن چکے ہیں۔ تاہم گھریلو سطح پر پیشہ ورانہ فرنچائز کرکٹ کی عدم موجودگی ایک خلا تھی۔ نوجوان کھلاڑی ضلعی گراؤنڈ سے براہِ راست قومی ٹیم تک چھلانگ لگانے پر مجبور تھے، جس سے درمیانی پرت کمزور رہتی ہے۔
اے پی ایل ٹی 20 اسی خلا کو پر کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگر لیگ مستحکم ہوئی تو ضلعی ٹیلنٹ کو ٹی 20 فرنچائز، پھر قومی ٹیم، پھر آئی پی ایل، پی ایس ایل، بی بی ایل اور دیگر لیگز تک نظر آنے والا راستہ ملے گا۔ پاکستان کے شائقین کے لیے بھی یہ لیگ دلچسپی کا باعث ہے: جغرافیائی قربت، مشترکہ کرکٹ ثقافت، اور اس امکان کے باعث کہ آئندہ ایڈیشنز میں پاکستانی ستارے بھی شامل ہو سکتے ہیں — بالکل 2018 کی طرح جب شاہد آفریدی اور محمد حفیظ میدان میں موجود تھے۔
تجارتی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بورڈ نے طویل المدتی تجارتی شراکت داری کے تحت لیگ کو متعدد ایڈیشنز تک چلانے کا وژن پیش کیا ہے۔ نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ، ڈیجیٹل مواد اور دس لاکھ سے زائد افغان ڈائسپورا کی مارکیٹ اس منصوبے کو صرف کابل یا دبئی تک محدود نہیں رکھتے۔ اگر تین بانی فرنچائزز پیشہ ورانہ معیار قائم کر دیں تو بقیہ دو فرنچائزز کی نیلامی اور اگلے سیزن کی بین الاقوامی پلئیر مارکیٹ دونوں مضبوط ہوں گی۔
شائقین، توقع اور اگلے چند ہفتے
افتتاحی فرنچائزز، لوگوز اور ٹرافی کی رونمائی کے بعد افغانستان پریمیئر لیگ ٹی 20 کے تاریخی پہلے سیزن کے حوالے سے شائقین میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر تینوں ٹیموں کے ناموں، رنگوں اور ممکنہ مارکی پلیئرز پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ راشد خان، محمد نبی، مجیب الرحمن اور دیگر قومی ستاروں کے کس فرنچائز میں شامل ہونے کے قیاسے بھی گردش کر رہے ہیں، تاہم بورڈ نے اب تک کسی کھلاڑی کی فرنچائز الاٹمنٹ کا اعلان نہیں کیا۔ یہ فیصلے ڈرافٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔
اگلے چند ہفتے لیگ کی ساکھ کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ 30 اگست کو رجسٹریشن پورٹل کھلنا، مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد، بقیہ دو فرنچائزز کے مالکان، اور مقامات کا اعلان — یہ چار نکات بتائیں گے کہ 2018 والی لیگ سے یہ منصوبہ واقعتاً کتنا مختلف ہے۔ اگر ادائیگیوں کی شفافیت، نشریاتی شیڈول اور گراؤنڈ کا معیار وقت پر واضح ہو گئے تو دسمبر 2026 کا آغاز افغان کرکٹ کے نئے دور کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔
لیگ کے منتظمین اور افغانستان کرکٹ بورڈ اسے افغان کرکٹ کے نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کوہِ ظفر ٹرافی اس باب کی علامت ہے: پہاڑ کی طرح بلند، چڑھنے میں مشکل، اور صرف استقامت سے حاصل ہونے والی۔ تین فرنچائزز نے اپنا جھنڈا گاڑ دیا ہے؛ اب میدان، ڈرافٹ اور شائقین فیصلہ کریں گے کہ یہ پہاڑ کتنا حقیقی ہے۔ پیپلز ٹی وی اس لیگ کی پیش رفت، فرنچائز اعلانات اور پلیئر ڈرافٹ کی مکمل کوریج جاری رکھے گا۔
افتتاحی تین فرنچائزز
ایکسل یونائیٹڈ کابل (Axcel United Kabul) — کابل — دارالحکومت
بلخ زوانان (Balkh Zwanan) — بلخ — شمالی افغانستان
قندھار واریئرز (Kandahar Warriors) — قندھار — جنوبی افغانستان
اہم تاریخیں
- 30 اگست 2026 — پلیئر رجسٹریشن پورٹل
- 27 ستمبر 2026 — پلیئر ڈرافٹ
- 27 دسمبر 2026 — سیزن کا آغاز
رپورٹ: پیپلز ٹی وی اسپورٹس ڈیسک | People's TV PK — https://www.peoplestvpk.com