فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس پر ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج، نوٹس واپس لینے کا مطالبہ

پاکستان / صحافت

فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس پر ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج، نوٹس فوری واپس لینے کا پرزور مطالبہ

تاریخ اشاعت: 01 ستمبر 2026 بشکریہ: پیپلز ٹی وی (Peoples TV ) تحریر: اسپیشل رپورٹر

کراچی (اسپیشل رپورٹر - پیپلز ٹی وی): کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کے خلاف ملک بھر کی صحافتی برادری، تمام پریس کلبز، یونین آف جرنلسٹس اور وکلاء تنظیموں نے زبردست احتجاجی لہر اٹھا دی ہے۔ تمام صحافتی و آئینی پلیٹ فارمز نے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا ورکرز کے حقوق کو سلب کرنے اور آزادیٔ صحافت کو دباؤ میں لانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔

کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ کی شدید مذمت

کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ، سیکریٹری اسلم خان، نائب صدر ارشاد کھوکھر، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع، خازن عمران ایوب اور تمام اراکین نے ایک مشترکہ اور سخت ہنگامی اجلاس میں قانونی نوٹس کی شدید مذمت کی۔ کے پی سی کی قیادت کا کہنا تھا کہ قانونی نوٹسز، مالیاتی دباؤ یا انتقامی کارروائیوں کے ذریعے میڈیا ورکرز کے حقوق اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو کسی صورت خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

کراچی پریس کلب کے عہدیداران نے واضح کیا کہ صحافیوں اور پریس کلب کے پلیٹ فارم نے ہمیشہ ورکرز کے معاشی تحفظ اور ان کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قانونی و اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ پریس کلب نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر سطح پر ورکرز کا مقدمہ لڑا جائے گا۔

ماضی کی قربانیوں کا یاد دہانی اور تاریخ کا آئینہ

کراچی پریس کلب کی قیادت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جب جنگ جیو گروپ اور میر شکیل الرحمان خود گوناگوں مشکلات، پابندیوں اور سخت حالات سے دوچار تھے، تو کراچی پریس کلب ہی وہ واحد نظریاتی سنگ میل تھا جس نے ہر فورم اور سڑک پر ان کے اداروں، صحافیوں اور تمام ملازمین کے مفادات اور روزگار کے لیے سب سے پہلے اور سب سے بلند آواز اٹھائی تھی۔

رہنماؤں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور تاریخی ستم ظریفی ہے کہ آج جب وہی پریس کلب اور اس کا نڈر صدر میڈیا ورکرز کے جائز معاشی اور قانونی حقوق کے لیے بات کر رہا ہے، تو اسے قانونی نوٹسز بھیج کر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اہم مطالباتی نکات: صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ

1. فاضل جمیلی کو جاری کیا گیا قانونی نوٹس بلا تاخیر اور فوری واپس لیا جائے۔

2. میڈیا ورکرز کے تمام بقایا جات اور معاشی حقوق کی فوری اور مکمل ادائیگی کی جائے۔

3. صحافتی نمائندوں پر قانونی و انتظامی دباؤ ڈالنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔

4. مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج اور بار کونسلز کے ساتھ مشترکہ تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

سندھ اور سکھر یونین آف جرنلسٹس کا سخت ردعمل

سکھر یونین آف جرنلسٹس نے قانونی نوٹس بھیجے جانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ سکھر یونین کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکریٹری کامران شیخ اور دیگر عہدیداران نے اپنے ایک ہنگامی اعلامیے میں کہا کہ صحافیوں اور پریس کلب کے منتخب نمائندوں کی آواز کو قانونی دھمکیوں یا نوٹسز کے ذریعہ دبانا ناممکن ہے۔

سکھر یونین نے تنبیہ کی کہ اگر میر شکیل الرحمان نے یہ قانونی نوٹس فوری واپس نہ لیا تو ملک بھر کی تمام صحافتی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے نمائندے، تمام بار کونسلز اور انسانی حقوق کی فعال تنظیمیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک وسیع تر آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا دیں گی۔

پشاور پریس کلب اور خیبر پختونخوا کے صحافیوں کی یکجہتی

خیبر پختونخوا کی نمائندہ صحافتی تنظیم پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکریٹری عالمگیر خان نے بھی فاضل جمیلی کو نوٹس بھیجے جانے کے اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ، قانونی ہتھکنڈوں یا کسی بھی قسم کے سیٹھ شاہی رویے سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اپنے جائز حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

پشاور پریس کلب کی قیادت نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا کی پوری صحافی برادری کراچی پریس کلب، اس کے صدر فاضل جمیلی اور میڈیا ورکرز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر احتجاجی کال کا بھرپور ساتھ دے گی۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کا مشترکہ اعلان

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) اور کوئٹہ پریس کلب نے اپنے ایک اہم مشترکہ اجلاس میں جاری کردہ اعلامیے میں کہا کہ فاضل جمیلی ملک کے ایک نہایت محترم اور سینئر صحافی ہیں اور کسی بھی پریس کلب کے صدر کی بنیادی ذمہ داری اپنے میڈیا ورکرز کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ ورکرز کے حق میں بات کرنا کوئی جرم یا قانونی خلاف ورزی نہیں ہے۔

دونوں نمائندہ تنظیموں نے قانونی نوٹس فوری طور پر کالعدم قرار دے کر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) جو بھی آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے، بلوچستان کے تمام صحافی ان کے ہر فیصلے کی مکمل حمایت کریں گے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی تشویش اور مطالبہ

پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی نمائندہ باڈی 'پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس' (PFUJ) نے بھی اس قانونی نوٹس کو آزادیٔ صحافت اور ورکرز کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایف یو جے کی مرکزی قیادت نے واضح کیا کہ میڈیا ورکرز کی نمائندہ آوازوں کو دبانے کی ہر کوشش کو ملکی سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔

پی ایف یو جے نے مطالبہ کیا کہ فاضل جمیلی کو بھیجا گیا نوٹس بلا تاخیر واپس لیا جائے اور میڈیا مالکان اپنے ملازمین کے حقوق اور واجبات کی ادائیگی پر توجه دیں، نہ کہ آئینی اور قانونی حق مانگنے والے نمائندوں کو عدالتی الجھنوں میں گھسیٹنے کی کوشش کریں۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) اور PFUJ دستور کا موقف

کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے نوٹس کو آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ منتخب صحافتی نمائندوں کو نوٹس بھیج کر خاموش کرانے کی روایت انتہائی خطرناک اور قابلِ مذمت ہے۔

اسی طرح پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے مرکزی صدر حاجی محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں یا قانونی دھمکیوں سے ورکرز کے معاشی حقوق کی جنگ کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ایف یو جے دستور کا ایک ایک رکن کراچی پریس کلب اور فاضل جمیلی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔

وکلاء برادری اور آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کا تحفظات کا اظہار

صحافیوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی وکلاء برادری نے بھی اس صورتحال کا شدید نوٹس لیا ہے۔ آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں فاضل جمیلی کے ساتھ مکمل یکجہتی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کی بات کرنا آئینِ پاکستان کا دیا ہوا بنیادی حق ہے۔ وکلاء کمیٹی نے اعلان کیا کہ اگر یہ کیس قانونی مراحل میں داخل ہوتا ہے تو ملک کے بہترین وکلاء فاضل جمیلی کی بلا معاوضہ قانونی معاونت کریں گے اور کراچی پریس کلب کے تاریخی کردار کا دفاع کریں گے۔

فاضل جمیلی کا دباؤ قبول کرنے سے انکار اور جرات مندانہ ردعمل

قانونی نوٹس موصول ہونے پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے انتہائی پرعزم اور جرات مندانہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ نوٹس موصول ہونے پر خوشی ہوئی ہے۔ فاضل جمیلی کا کہنا تھا کہ اب وہ مناسب وقت آگیا ہے کہ ان تمام چھپے ہوئے حقائق اور معاملات کو بے نقاب کیا جائے جن کی وجہ سے گزشتہ طویل عرصے سے غریب میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے معاشی اور پروفیشنل مفادات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

فاضل جمیلی نے عزم ظاہر کیا کہ کوئی بھی نوٹس یا دباؤ انہیں ورکرز کے حقوق کی سچی اور کھری بات کرنے سے نہیں روک سکتا اور وہ صحافتی برادری کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے آخری حد تک جائیں گے۔

نتیجہ: صحافتی یکجہتی اور آگے کا لائحہ عمل

پاکستان بھر کی صحافتی تنظیموں، یونینز اور پریس کلبز نے اپنے مشترکہ موقف میں یہ بات چاک و چوبند انداز میں واضح کر دی ہے کہ فاضل جمیلی کو اس معرکے میں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے اور بالخصوص میڈیا ورکرز کے روزگار اور واجبات کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی، جمہوری اور احتجاجی دائرہ کار میں تمام دستیاب راستے اختیار کیے جائیں گے۔

تمام معتبر خبروں اور صحافتی تحریکوں کی پل پل کی اپ ڈیٹس کے لیے پیپلز ٹی وی پی کے (www.peoplestvpk.com) وزٹ کرتے رہیں۔

© 2026 Peoples TV (www.peoplestvpk.com) - تمام حقوق محفوظ ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی