شاہراہ فیصل کی آئی ٹی عمارتوں میں کالے کاروبار کا انکشاف، NCCIA کا بڑا کریک ڈاؤن

شاہراہ فیصل کی بڑی آئی ٹی عمارتوں میں مبینہ کالے کاروبار کا انکشاف، NCCIA کا بڑا کریک ڈاؤن، 274 افراد گرفتار

کراچی: شہر قائد کی مصروف ترین شاہراہ فیصل پر قائم بڑی بڑی آئی ٹی عمارتوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی مالیاتی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ شاہراہ فیصل پر قائم بعض بڑی عمارتوں میں آئی ٹی سیکٹر کی آڑ میں مبینہ طور پر کالے کاروبار چلائے جا رہے ہیں۔

شہزاد اکبر، ایڈیشنل ڈائریکٹر NCCIA کراچی زون نے اپنے بیان میں کہا کہ شاہراہ فیصل پر واقع متعدد بڑی عمارتوں میں آئی ٹی سیکٹر سے وابستہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں، تاہم بعض اداروں کی سرگرمیوں کے پیچھے مبینہ طور پر غیر قانونی کاروبار اور بین الاقوامی مالیاتی فراڈ کے نیٹ ورکس موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص شاہراہ فیصل پر سفر کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ یہاں بڑی بڑی عمارتوں میں متعدد آئی ٹی کمپنیاں قائم ہیں، لیکن تحقیقات کے دوران بعض کمپنیوں کے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

شاہراہ فیصل کی آئی ٹی عمارتوں میں مبینہ غیر قانونی کاروبار

NCCIA حکام کے مطابق کراچی کے مختلف تجارتی علاقوں میں قائم بعض کال سینٹرز بظاہر آئی ٹی سروسز اور دیگر قانونی کاروبار کے نام پر کام کرتے تھے، تاہم مبینہ طور پر ان کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو مالیاتی فراڈ کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

حکام کی ابتدائی معلومات کے مطابق کراچی میں تقریباً 300 سے 350 ایسے کال سینٹرز کام کر رہے ہو سکتے ہیں جو مبینہ طور پر مختلف قسم کی اسکیمنگ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان میں سے بڑی کمپنیوں کی نشاندہی کے بعد ایک اہم کمپنی کے خلاف کارروائی کی گئی۔

شاہراہ فیصل کراچی کی بڑی آئی ٹی عمارتیں جہاں مبینہ غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کا انکشاف ہوا، Peoples TV
شاہراہ فیصل کراچی کی بڑی کاروباری اور آئی ٹی عمارتیں، جہاں بعض اداروں کی سرگرمیوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تصویر: Peoples TV

کاوش کراؤن پلازہ میں NCCIA کی کارروائی، 274 افراد گرفتار

حکام کے مطابق کاوش کراؤن پلازہ میں قائم ایک مبینہ فراڈ کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 274 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کمپنی ان بڑی کمپنیوں میں شامل بتائی گئی جن کی سرگرمیوں پر متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے تھے۔

کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے افراد میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل تھے۔ فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 142 افراد خواتین اور نابالغ بچوں پر مشتمل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی ہوچکی تھی، تاہم مبینہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات پر دوبارہ کارروائی کی گئی۔ اس مرتبہ وہاں موجود افراد کے خلاف بھی ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

لیپ ٹاپس سے غیر ملکی شہریوں کے کریڈٹ کارڈز کا حساس ڈیٹا برآمد

چھاپے کے دوران متعدد لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے گئے۔ حکام کے مطابق ان آلات کی ابتدائی جانچ کے دوران غیر ملکی شہریوں کے کریڈٹ کارڈز اور مالیاتی معلومات سے متعلق حساس ڈیٹا سامنے آیا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض لیپ ٹاپس پر استعمال ہونے والی یوزر آئی ڈیز اور حقیقی افراد کی شناخت میں فرق تھا۔ مبینہ طور پر ملازمین اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے مارک، جان اور دیگر فرضی غیر ملکی نام استعمال کرتے تھے۔

کراچی میں NCCIA کی کارروائی کے دوران مبینہ فراڈ کال سینٹر سے ضبط کیے گئے لیپ ٹاپس اور ڈیجیٹل آلات، Peoples TV
مبینہ کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران تحویل میں لیے گئے کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی نمائندہ تصویر۔ تصویر: Peoples TV

کریڈٹ کارڈ کی رقم معاف کرنے کے نام پر فراڈ

حکام کے مطابق مبینہ فراڈ کرنے والے افراد بین الاقوامی بینکوں کے صارفین سے رابطہ کرکے انہیں مختلف مالیاتی سہولتوں کی پیشکش کرتے تھے۔

مثال کے طور پر کسی صارف کے پاس 15 لاکھ روپے کی کریڈٹ لمٹ والا کارڈ ہو اور وہ اس میں سے 5 لاکھ روپے استعمال کرچکا ہو تو اسے فون کرکے بتایا جاتا تھا کہ بینک کی نئی اسکیم کے تحت استعمال شدہ رقم معاف یا ختم کی جاسکتی ہے۔

اس پیشکش کے ذریعے صارف کا اعتماد حاصل کیا جاتا اور بعدازاں اس سے کریڈٹ کارڈ اور بینکنگ سے متعلق حساس معلومات طلب کی جاتی تھیں۔ حکام کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور مرچنٹس تک منتقل کی جاتی تھیں، جہاں سے مالیاتی فراڈ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

شرح سود کم کرنے کی پیشکش بھی فراڈ کا ذریعہ

مبینہ فراڈ کا دوسرا طریقہ کریڈٹ کارڈ کی شرح سود کم کرنے کی پیشکش کرنا تھا۔ صارفین کو بتایا جاتا تھا کہ اگر ان کے کریڈٹ کارڈ پر 10 فیصد شرح سود عائد ہے تو نئی بینکنگ پالیسی کے تحت اسے کم کرکے 2 فیصد کیا جاسکتا ہے۔

اس پیشکش کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کیا جاتا اور انہیں مختلف مراحل مکمل کرنے کے نام پر اپنی حساس معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔

کمپنی بند ہونے کے بعد نئے نام سے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا انکشاف

حکام کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے باوجود ان کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بعض اوقات کسی کمپنی کے خلاف کارروائی کے بعد اس سے وابستہ افراد کسی دوسرے نام سے نئی کمپنی قائم کرکے مبینہ طور پر وہی سرگرمیاں شروع کردیتے ہیں۔

حکام نے ڈیبٹ ویلیڈیشن (Debt Validation) کو ایک مخصوص مہارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں کام کرنے والے بعض افراد کے لیے دوسری کمپنیوں میں دوبارہ کام شروع کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

14 سے 15 سال کے کم عمر بچے بھی مبینہ سرگرمیوں میں شامل

اس پورے معاملے کا ایک تشویشناک پہلو کم عمر بچوں کی مبینہ شمولیت ہے۔ NCCIA حکام کے مطابق بعض کال سینٹرز میں 14 سے 15 سال کی عمر کے بچے بھی کام کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔

کاوش کراؤن پلازہ میں کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں خواتین اور نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے بچوں کے تحفظ، غیر قانونی ملازمت اور ممکنہ استحصال کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کردیے ہیں۔

کراچی کریڈٹ کارڈ فراڈ کیس میں ضبط شدہ لیپ ٹاپس اور ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک تحقیقات، Peoples TV
مبینہ کریڈٹ کارڈ فراڈ کیس میں ڈیجیٹل آلات اور کمپیوٹر ڈیٹا کی تحقیقات کی نمائندہ تصویر۔ تصویر: Peoples TV

کراچی کے آئی ٹی سیکٹر کی ساکھ اور سائبر کرائم کے خلاف کارروائی

کراچی پاکستان کا ایک بڑا کاروباری اور ٹیکنالوجی مرکز ہے۔ شاہراہ فیصل سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد آئی ٹی کمپنیاں، سافٹ ویئر ہاؤسز، کال سینٹرز اور آؤٹ سورسنگ ادارے کام کر رہے ہیں۔

آئی ٹی سیکٹر پاکستان کی معیشت، روزگار اور غیر ملکی زرمبادلہ کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اگر کسی ادارے کی آڑ میں بین الاقوامی مالیاتی فراڈ جیسی سرگرمیاں جاری ہوں تو اس سے متاثرہ افراد کو مالی نقصان پہنچنے کے ساتھ پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

NCCIA کی کارروائی نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ایسے اداروں کی نگرانی، ڈیجیٹل شواہد کی جانچ اور مبینہ فراڈ نیٹ ورکس کے اصل سرپرستوں تک پہنچنا کتنا ضروری ہے۔

نتیجہ

شاہراہ فیصل کی بڑی آئی ٹی عمارتوں میں مبینہ کالے کاروبار سے متعلق شہزاد اکبر کا انکشاف کراچی میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔ کاوش کراؤن پلازہ میں کارروائی اور 274 افراد کی گرفتاری کے بعد اب اصل توجہ ڈیجیٹل شواہد، مالیاتی روابط اور مبینہ نیٹ ورک کے اصل ذمہ داران تک پہنچنے پر ہوگی۔

قانونی آئی ٹی کاروبار اور غیر قانونی سرگرمیوں میں فرق رکھنا ضروری ہے، جبکہ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کو حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

رپورٹ: Peoples TV
مصنف: Peoples TV
اشاعت: Peoples TV News
کاپی رائٹ: © Peoples TV. All Rights Reserved.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی