Peoples Tv Pakistan

کراچی میں رہائشی عمارت کا مبینہ اسکینڈل، جوہر کمپلیکس انتظامیہ پر 40 لاکھ روپے سے زائد غبن کا الزام

 

Karachi Residential Building Scam: Rs 4 Million Embezzlement Alleged in Johar Complex

کراچی میں رہائشی عمارت کا مبینہ اسکینڈل، جوہر کمپلیکس انتظامیہ پر 40 لاکھ روپے سے زائد غبن کا الزام

رینوویشن کے نام پر مکینوں سے وصول کی گئی رقم، شفافیت اور آڈٹ سے انکار

کراچی

اسٹاف رپورٹر / ظہور احمد سروہی

کراچی کی رہائشی عمارت جوہر کمپلیکس میں رنگ و روغن اور رینوویشن کے نام پر مکینوں سے وصول کی گئی خطیر رقم مبینہ طور پر خردبرد کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد متاثرہ مکینوں میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

President Johar Complex Welfare Association
جوہر کمپلیکس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر — فائل فوٹو
“ہم سے عمارت کی مکمل رینوویشن کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر آج بھی بیشتر حصے خستہ حال ہیں۔ ہمیں نہ حساب دیا گیا اور نہ کوئی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔”
— متاثرہ مکین

تفصیلات کے مطابق جوہر کمپلیکس ریزیڈنس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے فرنٹ کے کل 116 فلیٹس اور دکانوں سے رینوویشن کے نام پر رقوم وصول کی گئیں، جن میں سے 40 گھروں اور دکانوں سے فی یونٹ 55،55 ہزار روپے اور 76 گھروں سے فی فلیٹ 35،35 ہزار روپے لیے گئے۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً 48 لاکھ روپے جمع کیے گئے۔

General Secretary Johar Complex Welfare Association
جوہر کمپلیکس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری — فائل فوٹو
“عمارت کی مکمل رینوویشن کے بجائے صرف چند فلیٹس پر معمولی کام کیا گیا، جبکہ باقی رقم مبینہ طور پر خردبرد کر لی گئی۔”
— سید ظہور شاہ / معروف سولنگی

نائب صدر سید ظہور شاہ اور مقامی سماجی رہنما معروف سولنگی کے مطابق یہ رقم مبینہ طور پر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عالم میرانی اور جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ چانڈیو کی ملی بھگت سے ہڑپ کی گئی۔ مکینوں کو نہ تو اخراجات کی تفصیلات فراہم کی گئیں اور نہ ہی کسی قسم کا شفاف آڈٹ کرایا گیا۔

Johar Complex Welfare Association Group
جوہر کمپلیکس ریزیڈنس ویلفیئر ایسوسی ایشن — گروپ فوٹو
“ہم اعلیٰ حکام اور اینٹی کرپشن اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین مالی بے ضابطگی کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔”
— متاثرین کی مشترکہ اپیل

شکایت درج کرانے والے متاثرین میں ریاض حسین منگریو، حلیمہ اکرم، لالا اسد علوی، معروف سولنگی، مصطفیٰ منگی، سکندر جمانی، حاجی روشن علی منگی، جاوید میمن، شیراز سولنگی، الاہی بخش منگی، ریاض جوکھیو، اسلم جلبانی اور دیگر شامل ہیں۔

متاثرہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل آڈٹ رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ آئندہ رہائشی فلاحی اداروں میں اس قسم کی مبینہ بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی