شرحِ سود میں معمولی کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، سید امان شاہ

شرحِ سود میں معمولی کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، سید امان شاہ

اس کمی سے صنعت و تجارت سمیت کسی شعبہ کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا
کراچی (پ ر)
APP Provincial Convener Balochistan Syed Aman Shah criticizes State Bank interest rate cut, calling it insufficient for industry and trade relief.

عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر اور معروف تاجر رہنما سید امان شاہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرحِ سود میں معمولی کمی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے اور اس سے صنعت و تجارت کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملے گا۔

سید امان شاہ کا کہنا تھا کہ بلند شرحِ سود نے پہلے ہی کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی آ چکی ہے جبکہ نئی سرمایہ کاری تقریباً رک چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں معمولی کمی سے نہ تو کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوگا اور نہ ہی معیشت کی رفتار میں کوئی واضح بہتری آئے گی۔

“بلند شرحِ سود نے صنعتکاروں اور تاجروں کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے، معمولی کمی محض علامتی اقدام ہے جس سے عملی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔” — سید امان شاہ

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی میں نسبتاً کمی کے باوجود شرحِ سود کو غیر معمولی حد تک بلند رکھنا زمینی حقائق کے منافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسٹیٹ بینک شرحِ سود میں نمایاں اور مسلسل کمی کرے تاکہ صنعتکاروں اور تاجروں کو سستے قرضوں کی سہولت میسر آ سکے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات میں اضافہ ہو۔

سید امان شاہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروباری طبقے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع، حقیقت پسندانہ اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی مرتب کرے، کیونکہ مضبوط معیشت ہی ملک کی ترقی اور استحکام کی ضامن ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی