Peoples Tv Pakistan

کوکو گرین ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر 75 کروڑ روپے کی زمین پر قبضہ، جعلی دستاویزات کا انکشاف

NAB Karachi Recovers 250 Acres of State Land Worth Rs 750 Million

نیب کراچی کی بڑی کارروائی، 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)

NAB Karachi operation recovering 250 acres of illegally occupied government land in Thatta
نیب کراچی کی جانب سے سرکاری زمین کی واگزاری کی کارروائی

قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کے دوران ضلع ٹھٹھہ کے دیہہ کوہستان، سپر ہائی وے کے قریب واقع تقریباً 250 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی ناجائز قبضے سے واگزار کرا لی ہے، جس کی مالیت 750 ملین روپے (75 کروڑ روپے) بتائی جاتی ہے۔ یہ اراضی غیر قانونی طور پر کوکو گرین ہاؤسنگ اسکیم کے نام سے ایک رہائشی منصوبے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔

نیب کراچی کی جانب سے کی جانے والی جامع تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم نے جعلی ریونیو ریکارڈ، من گھڑت سیل ڈیڈز، فرضی اسٹامپ پیپرز اور بوگس دستاویزات کے ذریعے سرکاری زمین پر قبضہ کیا اور عوام کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔

تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زمین کی ملکیت سے متعلق پیش کی گئی تمام دستاویزات مکمل طور پر جعلی، غیر قانونی اور بے بنیاد تھیں۔

نیب انکوائری کے مطابق زمین کی ابتدائی انٹری مارچ 1994 (اندراج نمبر 58/35) میں ریکارڈ آف رائٹس (ROR) میں کی گئی، حالانکہ اس سے قبل کوئی جائز یا قانونی اندراج موجود نہیں تھا۔ مزید یہ کہ یہ اندراج محض زبانی بیان پر مبنی تھا، جبکہ جس سرکاری رجسٹر کے صفحے کا حوالہ دیا گیا، وہ سرے سے موجود ہی نہیں پایا گیا۔

NAB Karachi operation recovering 250 acres of illegally occupied government land in Thatta
نیب کراچی کی جانب سے سرکاری زمین کی واگزاری کی کارروائی

تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ 1996 کے بعد ظاہر کی جانے والی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ بھی جعلی تھی۔ حیدرآباد کے مائیکرو فلم یونٹ اور ٹھٹھہ کے سب رجسٹرار آفس نے تصدیق کی کہ مذکورہ سیل ڈیڈ (سیریل نمبر 16، رجسٹریشن نمبر 14) نہ تو کبھی رجسٹر ہوئی اور نہ ہی کسی سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔

جولائی 2007 میں زمین کی نوعیت تبدیل کرنے کے لیے ایک جعلی گھاٹ وڈھ فارم استعمال کیا گیا، تاہم تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ فارم کبھی بھی سروے اینڈ سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ، حکومت سندھ کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اسی طرح جنوری 2018 میں زرعی زمین کو غیر زرعی بنانے کے لیے کی گئی انٹری بھی مختیارکار کے لازمی دستخط کے بغیر پائی گئی، جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات کے دوران ایک نہایت سنگین انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر (AC) کے دستخط شدہ دستاویزات پیش کیے گئے، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مذکورہ تاریخ کو وہ افسر نیب کی تحویل میں موجود تھا۔ اس انکشاف نے جعلسازی کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

NAB Karachi operation recovering 250 acres of illegally occupied government land in Thatta
نیب کراچی کی جانب سے سرکاری زمین کی واگزاری کی کارروائی

صوبائی لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (LARMIS) سے بھی تصدیق ہوئی کہ مذکورہ 250 ایکڑ سرکاری اراضی کا کوئی مستند سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کوکو گرین ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ نے سوسائٹی کے نام پر کم از کم دو بینک اکاؤنٹس کھولے، جن کے ذریعے عوام سے 68 ملین روپے غیر قانونی طور پر وصول کیے گئے۔

"نیب سرکاری زمینوں اور عوام کی لوٹی گئی رقوم کی بازیابی کے لیے پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گا، اور کسی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔" ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی

ڈی جی نیب کراچی نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے وژن کے مطابق نیب کراچی بدعنوانی کے خلاف جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک علیحدہ لینڈ ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔

نیب کراچی کی یہ کارروائی نہ صرف بدعنوان عناصر کے خلاف ایک سخت پیغام ہے بلکہ عوام اور ریاست سے لوٹی گئی دولت کی واپسی کے عزم کا واضح ثبوت بھی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی