Peoples Tv Pakistan

گوٹھ بھرام خان کے پرائمری اسکول میں چوری | تعلیمی سامان لوٹ لیا گیا

گوٹھ بھرام خان کے پرائمری اسکول میں چوری، تعلیمی سامان لوٹ لیا گیا

دس سال سے بنیادی سہولیات سے محروم اسکول حکومتی غفلت کا شکار

دادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر): دادو کے گوٹھ بھرام خان میں قائم سرکاری پرائمری اسکول ایک بار پھر حکومتی عدم توجہی اور بدانتظامی کی واضح مثال بن گیا، جہاں نامعلوم افراد نے رات کے وقت اسکول کے دروازے توڑ کر قیمتی تعلیمی سامان چوری کر لیا۔

Government primary school in Goth Bhuram Khan Dadu after theft of furniture

ذرائع کے مطابق چور اسکول کے کلاس رومز سے ڈیسک، کرسیاں اور بینچز اٹھا کر لے گئے، جس کے باعث اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں اور طلبہ کو فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا خدشہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اسکول گزشتہ دس برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم چلا آ رہا ہے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر راهب علی اور استاد اسرار علی مسلسل محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کو تحریری درخواستیں دیتے آ رہے ہیں، مگر تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

“ہم بارہا حکام کو آگاہ کر چکے ہیں کہ اسکول کو چاردیواری، چوکیدار اور اساتذہ کی شدید ضرورت ہے، مگر ہماری درخواستوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔”

درخواستوں میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی تھی کہ اسکول میں نہ چاردیواری موجود ہے، نہ چوکیدار اور نہ ہی مطلوبہ تعداد میں اساتذہ، جس کے باعث اسکول ہمیشہ چوری اور دیگر خطرات کی زد میں رہا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔

Government primary school in Goth Bhuram Khan Dadu after theft of furniture

علاقہ مکینوں اور اساتذہ نے اس واقعے کو دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرناک علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی غفلت کے باعث تعلیم اور شعور کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر دس سال تک کی گئی درخواستوں کے باوجود اس اسکول کو بنیادی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی گئیں؟

“اگر دیہی بچوں کے اسکول اسی طرح غیر محفوظ رہے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔”

عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، چوری میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے اور اسکول کو فوری طور پر چاردیواری، چوکیدار اور اساتذہ فراہم کیے جائیں تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی