کراچی پریس کلب میں معروف صحافی و محقق ڈاکٹر سعید عثمانی کی تحقیقی کتاب ’’ایف ایم ریڈیو، ریاست اور ثقافتی تغیر‘‘ کی پُروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں صحافت، تحقیق اور اکیڈمیا سے وابستہ نامور شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں ڈاکٹر توصیف احمد خان، ڈاکٹر عرفان عزیز، بدر سومرو، ڈاکٹر جعفر، منعزہ صدیقی اور مصنف ڈاکٹر سعید عثمانی نے اظہارِ خیال کیا، جبکہ تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمود لئی نے کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض سیدہ فروا حسن نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بدر سومرو نے کہا:
“سعید عثمانی صاحب سلطنتِ عثمانیہ کے آخری چراغ ہیں، جنہیں ہم بجھنے نہیں دیں گے۔ زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں محفوظ کرنا نہایت ضروری ہے۔”
ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا:
“جب میں سعید عثمانی صاحب کو دیکھتا ہوں تو یہ سبق ملتا ہے کہ عمر چاہے جو بھی ہو، پڑھنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ریڈیو سماج میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس تحقیق میں سماجی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
منعزہ صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“ریڈیو زبان کی خوبصورتی کا ذریعہ ہے، لوگ ریڈیو سے زبان سیکھتے ہیں۔ ایف ایم ریڈیو نے دیہات تک معلومات پہنچانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔”
سینئر صحافی ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا:
“جب میری سعید عثمانی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ مجھے نوجوانوں سے زیادہ نوجوان نظر آئے۔ ریڈیو کے ذریعے بعض اوقات جھوٹ کو بھی فروغ دیا گیا، حتیٰ کہ ہاری ہوئی جنگوں کو جیتی ہوئی بنا کر پیش کیا گیا۔”
انہوں نے کہا کہ بھارتی ریڈیو نے سماجی شعور بیدار کرنے میں مثبت کردار ادا کیا، خاص طور پر تعلیم، صحت اور آبادی میں کمی جیسے موضوعات پر۔
ڈاکٹر جعفر نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
“اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خود سے گفتگو کر رہا ہوں۔ یہ کتاب معلومات کا خزانہ ہے اور ایک معیاری تحقیقی کام ہے۔”
کتاب کے مصنف ڈاکٹر سعید عثمانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“ایف ایم ریڈیو ختم نہیں ہوا، آج بھی موبائل فون میں ریڈیو موجود ہے۔ ریڈیو تنہائی کا بہترین ساتھی ہے اور کام کے دوران معلومات کا ذریعہ بھی۔”
انہوں نے کتاب کی تکمیل میں تعاون کرنے والے تمام افراد اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے اختتام پر صدرِ محفل ڈاکٹر محمود لئی نے کہا:
“تحقیقی مقالوں کو کتابی صورت دینا معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سعید عثمانی وہ صحافی ہیں جنہوں نے بجلی کے بغیر صحافت سے لے کر آج کے اے آئی دور تک کا سفر دیکھا ہے۔”
انہوں نے مصنف کی تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کتب نوجوانوں اور معاشرے کے لیے علمی سرمایہ ہیں۔